کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 21فروری مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے پارٹی کے زیر اہتمام ملک بھر اور پشتونخواوطن کے تمام اضلاع میں مختلف تقاریب ،سیمینار اور پروگراموں کا انعقاد ہوگا اس سلسلے میں مرکزی تقریب کوئٹہ کے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر21فروری بروز اتوار کو منعقد ہوگی۔
جس سے پارٹی کے چیئرمین جناب محمود خان اچکزئی اور پارٹی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ ادیب ، دانشور ،ماہر لسانیات ، شعراء اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماء اظہار خیال اور شرکت کرینگے۔ پارٹی کے تمام اضلاع ، علاقائی وابتدائی یونٹوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ 21فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریبات ، سیمینار منعقد کرنے کیلئے تیاریاں کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے 1999میں عالمی طور پر مادری زبانوں کی اہمیت اور افادیت کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے 1952کے ان شہدا کی یادمیں 21فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا اوراقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے 21فروری کوتمام دنیا میں اس حوالے سے کانفرنسز ، سیمینار منعقد ہورہے ہیں۔
جس میں دنیا کے مختلف اقوام وعوام اپنی مادری زبانوں ان کی اہمیت وافادیت کو اجاگر کرنے اور مادری زبانوں کے فروغ اور اسے قومی و سرکاری زبان قرار دینے کیلئے نئے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتو زبان کم وبیش چار ہزار سال پرانی زبان ہے یونانی مورخ یوروٹوڈس نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ پشتو زبان اس وقت اس خطے کی زبان تھی اور جرمن ماہر لسانیات نے بھی اس سلسلے میں اس خطے کی زبان کو آریائی زبان قرار دیا ہے ۔
بیان میں کہا گیاہے کہ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک کے استعماری واستحصالی حکمرانوںاور حاکم طبقات نے شروع ہی سے یہ کوشش کی کہ یہاں کے اقوام وعوام کو اپنی مادری زبان یعنی اپنی قومی زبان سے محروم رکھا جائے اور اس استعماری پالیسی کو دوام دیتے ہوئے گزشتہ73سالوں میں بھی پشتو جو کہ ملک کے کروڑوں عوام کی زبان ہے سرکاری ، تعلیمی ،دفتری ،عدالتی اور قومی زبان قرار نہیں پائی جاسکی حالانکہ زبان ایک قوم کی بنیادی شناخت کا ذریعہ ہوتی ہے۔
اور جو قومیں اپنی زبان کو بھول جاتی ہے دراصل وہ اپنی تاریخی ، اپنی ماضی اور اپنا مستقبل کھو دیتی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ادب ، سیاست ، صحافت اور زبان ایک دوسرے سے جوڑی ہوئی ہے ۔ اور زبان کے بغیر ایک قوم کی افادیت اور اہمیت ختم ہوجاتی ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ پشتو ایک قانون رواج اور پشتونوں کے رہن صحن کا ایک قانون اور Code of life ہے۔
جس نے وہ بڑے مسائل حل کرائیں ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 21فروری مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے پارٹی کارکن مختلف تقاریب کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان تقاریب میں بھرپور انداز سے شرکت کریں۔