دالبندین: نیشنل پارٹی وحدت بلوچستان کے لیبرسیکرٹری سردار رفیق شیر بلوچ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ راتوں رات بننے والے سلیکٹرپارٹی جسے بننے کے ایک دن بعد صوبائی حکومت دی گئی تاکہ مقتدرہ قوتیں ان سیلکٹڈکے ذریعہ بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے میں کوئی مشکل محسوس نہ کریں انھوں نے کہا بلوچستان کے نام کو استعمال کرنے والوں نے جام کمال کی قیادت میں سینیٹ الیکشن میں منڈی لگائی ہوئی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان سے باہر کے سرمایہ داروں کو یہاں سے ٹکٹ دینے کی مکمل اڑان بھر دی گئی ہے ایک طرف جام کمال اپنے غیربلوچستانی سالے کو ٹکٹ دینے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تو دوسری جانب خیبر پختونخواہ اور سندھ سے سرمایہ داروں کے تحائف وصولی کے بعد قیمتیں طے کرکے انھیں سینیٹر بنانے کی بھاگ دوڑ جاری ہے۔
اس ناروااور بے ضمیری عمل نے بلوچستان کا امیج پورے ملک میں برباد کرکے رکھ دیاہے انھوں نے کہا کہ عمران خان اور اسکی حکومت ایک طرف اوپن بیلٹ کی آرڈیننس لانے کی ایکٹنگ کررہی ہے جبکہ دوسری جانب اسکی اپنی پارٹی اور بورڈجسکاوہ خود ممبر بھی ہے۔
ایک ایسے شخص کو بلوچستان سے ٹکٹ دینے پر بضد ہے جونہ تو بلوچستان میں ہے اور نہ ہی انکی پارٹی میں جس سے پاکستانی قوم کو انکے اصل چہرے واضح ہوگئے ہیں انھوں نے کہا سیلکٹڈ صوبائی حکومت نے بلوچستان کے وسائل کاسودا کرنے کے ساتھ اب سینیٹ سیٹوں کے بھی سوداگری شروع کی ہے جنھیں تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔