|

وقتِ اشاعت :   February 14 – 2021

تربت: بلوچستان اکیڈمی آف لٹریچراینڈ ریسرچ تربت کے زیراہتمام بلوچی واردو کے عظیم شاعر عطاشاد کی 24ویں برسی کی مناسبت سے بلوچستان اکیڈمی تعلیمی چوک پر ایک تقریب بعنوان ’’عطاشادمراگش‘‘ کاانعقاد کیاگیا، تقریب کی صدارت بلوچستان اکیڈمی کے چیئرمین عبیدشاد نے کی، پروگرام 4حصوں پرمشتمل تھی، پہلے حصہ میں معروف دانشور وادیبوں نے عطاشاد کی زندگی اور فن کے حوالے سے مقالے وتقاریر پیش کیں۔

دوسرے حصہ میں عطاشاد کی بلوچی شاعری کا انگریزی ترجمہ پیش کیاگیا جبکہ تیسرے حصہ میں پینل ڈسکشن اورچوتھے حصے میں بلوچی مشاعرہ منعقد کیاگیا، پہلے حصہ میں نامور ادیب ودانشور پروفیسر غنی پرواز، یوسف عزیز گچکی، یونیورسٹی آف تربت کے ڈائریکٹر آئی بی ایل سی پروفیسر ڈاکٹرعبدالصبور بلوچ، بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے سابق چیئرمین ممتاز یوسف، پروفیسر شمبے کریم،مہیم دشتی، شہاب اکرم، شبیر شریف ودیگر نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ عطاشاد نے اپنی شاعری میں بلوچی کے نئے نئے الفاظ استعمال کرکے بلوچی ادب کو الفاظ کا ایک خزانہ عطاء کردیا ان کی شاعری میں بلوچستان کے تمام علاقوں کا لہجہ نظرآتاہے۔

ان کاکہنا تھاکہ عطا شاد حقیقی معنوں میں ایک کثیر الجہات شخصیت تھے، عطاشاد ایک عظیم شاعر کے علاوہ ڈرامہ نویس، ڈرامہ آرٹسٹ،محقق اور دانش ور بھی تھے جس طرح ان کی بلوچی شاعری منفرد اوریکتا ہے اسی طرح ان کی اردو شاعری لاجواب اوربے مثال ہے جبکہ اردو اوربلوچی کے علاوہ انہیں انگریزی اور فارسی زبان پر بھی دسترس حاصل تھی،ان کی بلوچی شاعری دورنگوں میں سموئی ہوئی ہے۔

جن میں کیفیتی شاعری بھی ہے اورتجرباتی شاعی بھی، انہوں نے سیاسی، سماجی، ثقافتی، مالی، ذاتی موضوعات پر بھی خیال آرائی کی ہے،جمالیاتی، وطنی، قومی اور بین الاقوامی موضوعات بھی ان کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں انہوں نے لسانی وزبانی تجربات بھی بے شمارکئے ہیں،تشبیہ، استعارات، علامات کا استعمال ان کی شاعری کاایک اہم خاصہ ہے۔

عطاشاد نے اپنی منفرد شاعری کے ذریعے بلوچی زبان و ادب کو ایک نئی شناخت اور پہچان دینے کے ساتھ آزاد نظم کے تجربے سے لے کر نئی شعری تراکیب،علامت اور تشبیہ و استعارات کے استعمال تک جدید بلوچی شاعری کو ایک نئی تخلیقی زبان دی ہے،سماجی شعور، فنی محاسن اور تخلیقات کی وجہ سے بلوچی زبان و ادب کو ایک نئی جہت دی،جس میں عطا شاد کی فنی اور سماجی شعور نے بھر پور کردار ادا کیاہے۔

انہوں نے اپنی شاعری میں پرانے صنف کو نئے صنف میں متعارف کرایا ہے، بڑے بڑے شعراء￿ کے غزل عطاشاد کی غزلوں کے سامنے بچوں کاکھیل نظرآتے ہیں انہوں نے آزاد نظم کو ایک نیا رنگ دیا، بلوچی شاعری میں سانیٹ کے بانی عطاشادہیں، ان کاکہنا تھا کہ عطاشاد کے اشعارمیں وسیع خیالات سموئے ہوئے ہیں مگرہم نے ان کی شاعری کو پوش میں ڈال کر طاق میں رکھ دیا ہے۔

انہوں نے غزل اور نظم کے میدان میں اپنی فنی عظمت کے جھنڈے گاڑے ہیں،انہوں نے اپنے الگ منفرد شعری اسلوب کی بدولت ادبی میدان میں ممتاز مقام حاصل کی،ان کی نظم ’’ساہ کندن‘‘ نے انہیں بہت شہرت بخشی، اس نظم میں بلوچ روایات اور تاریخ کا شعور ملتا ہے، ان کی اردو شاعری میں بلوچی ثقافت کی واضح جھلک نظر آتی ہے ان کی شاعری میں بلوچستان کی لوک گیتوں۔

کہانیوں، رومانوی داستانوں اور محاوروں کا حسین امتزاج ملتا ہے، عطاشاد نے سیدظہور شاہ ہاشمی اور محمد حسین عنقاء کی طرح بلوچی شاعری میں نئے اصناف متعارف کراکر بلوچی شاعری کونئی آہنگ عطاکی، عطا شاد نے بلوچی ادب کو ایک نئی شناخت دی ہے، عطا شاد نے بلوچی غزل کی دنیا میں خوبصورت اضافہ کیاہے اس لیے جدید بلوچی شاعری کی تاریخ عطاشاد کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے،عطا شاد کی شعری تخلیقات کی ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی جڑیں اپنی سرزمین اور کلچر سے پیوست ہیں انہوں نے موضوع اور مواد کو تخلیقی زبان اور شعری قالب میں ڈھال کر ایک منفرد انداز میں پیش کرکے رجحان ساز شاعر کا درجہ حاصل کیا۔

پروگرام کے دوسرے حصہ میں بانک مشرین حمید نے عطاشاد کی شعر ’’دل گریت ء ْ شپ ناریت‘‘ کا انگریزی ترجمہ پیش کیا جبکہ عباس حسن نے فضل بلوچ کی ترجمہ کردہ شعر پیش کی،اس حصے میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قدیر لقمان نے ادا کیے. شام کو پروگرام کے دوسرے حصے میں پینل ڈسکشن ہوانجس میں پروفیسر غفور شاد، مقبول ناصر اور عابد علیم نے عطاشاد کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ۔

جبکہ آخری حصہ میں محفل مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر غنی پرواز نے کی جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عابد علیم نے سر انجام دیے. مراگش کے دوران گرلز کالج کی طالبات نے عطاشادکی نظم پیش کی، مراگش میں مختلف پبلشرزکی جانب سے بک اسٹال بھی لگائے گئے تھے،جبکہ پروفیسر غفورشاد، ڈاکٹرفضل خالق، ارشادپرواز، مقبول ناصر، خلیل تگرانی،عابدعلیم، احمدعمر، اصغرمحرم سمیت شعراء وادباء ودیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے کثیرتعدادمیں شریک تھے۔