|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبرسابق ایم این اے میررؤف مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان ایک مردم خیزسرزمین ہے جہاں سیاسی وقومی نظریات پروان چڑھتے رہے ہیں لیکن سینٹ الیکشن میں جس طرح بولی کے غرض سے بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ بلوچستان میں ووٹ خریدکرانسانی ضمیرکی بولی لگادے گی۔

جوبلوچستان کی اکابرین کی سیاسی تربیت کے پیش نظرممکن نہیں کیونکہ بلوچستان کی قیادت وسیاسی رہنمائی وتربیت سردارعطاء اللہ خان مینگل‘ نواب خیربخش مری‘میرغوث بخش بزنجو‘نواب اکبرخان بگٹی‘ خان احمدیارخان‘ صمدخان اچکزئی‘ عبدالکریم شورش‘میرعبدالعزیزکرد‘ شیروف مری‘ میرگل خان نصیر‘ نواب نوروزخان زہری نے کی ہے۔

جس کے بعدیہ کہ دیگرصوبوں کے خواتین بلوچستان اسمبلی کے ممبران کی بولی دے تویہ ممبران اسمبلی وبلوچستان کی قومی سیاسی روایات کومسخ کرنے کی نارواعمل تصورہوگی جواسمبلی ممبران کے استحقاق کومجروع کرنے کیلئے کی جارہی ہے کیونکہ بلوچستان اسمبلی کے تمام ممبران قطع تعلق اس سے کہ ان کاتعلق کس جماعت سے ہے اس بات پراپنے ضمیروبلوچستان کی تاریخ میں بدنمائی کاحصہ نہ بنے۔

کیونکہ بلوچستان اسمبلی سے اگرسینٹ ممبران جودیگرصوبوں کے جیت جائیں تواسمبلی ممبران کانام بلوچستان کی سیاست میں ہمیشہ بدنماہی رہے گا انہوں نے بلوچستان کے پارلیمانی نمائندہ جماعتوں و رہنماؤں نواب محمداسلم خان رئیسانی سرداریارمحمدرندنوابزادہ گہرام بگٹی اصغرخان اچکزئی‘ اسداللہ بلوچ‘سیداحسان شاہ‘ عبدالخالق ہزارہ‘ جان محمد جمالی‘ نوابزادہ طارق خان مگسی‘میرسلیم کھوسہ سمیت تمام زندہ ضمیرممبران سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کی سیاسی وپارلیمانی آداب واحترام قومی روایات ووٹ کی تقدس اورحق نمائندگی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینٹ امیدواروں کوکامیاب کریں۔

تاکہ بلوچستان کے نام سے منسوب خریدوفروخت وبدنامی کی ممکنہ منفی تاثرکوپزیرائی نہ ملے اور بلوچستان کے معززپارلیمانی اراکین کی استحقاق کومشکوک دکھانے والے بلوچستان کارخ کرنیوالے ٹھیکیداروں کی حوصلہ شکنی ہوجو برسوں سے بلوچستان کے وسائل کامالک بنے ہیں۔

جبکہ اسلام آبادمیں لاپتہ لواحقین بے یارومددگار انصاف کے متلاشی عدم توجہی کاشکارہے جوبلوچستان کیساتھ روارکھے گئے سترسالہ استحصال کاحقیقی عکس ہے جس پربلوچستان کے پارلیمانی قوتیں توجہ دیکرقومی پارلیمانی سیاست میں یکجہتی کا تاثر پیدا کریں اورقومی حقوق کادفاع کریں۔