|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2021

کو ئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاہے کہ حکومت آئی ایم ایف ڈکٹیشن پر چل رہی ہے اسی سودی قرضے کے حصول کیلئے غریبوں کو تباہ کرنے کیلئے مہنگائی میں مسلسل اضافہ کیا جارہاہے۔موجودہ نااہل ناکام حکومت نے قرضہ حاصل کرنے کے لیے ماضی کی حکومتوں کے بھی سارے ریکارڈتوڑ ڈالے ہیں۔آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق جب تک گلے میں ہے۔

اس وقت تک دنیا میں پاکستان کی عزت اوروقار بحال نہیں ہو سکتا۔پاکستان کو آئی ایم ایف کا غلام بنانے والے کسی طرح بھی قوم کے خیر خواہ ہیں بھاری قرضوں کے حصول والے حکمرانوں کو لٹیروں سے قومی دولت برآمد کرنے کی کوئی فکر نہیں نہ ہی حکومتی سطح پر شاہ خرچیاں ختم اور سادگی وقناعت اختیار کرنے کی فکر ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کہا تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہترہے۔

خودکشی کر لوں گا آج وہ کس منہ سے عوام کا سامنا کررہے ہیں۔؟ حکومت کی ناقص پالیسوں کی بدولت گزشتہ دوبرسوں میں ملک وقوم پر قرضوں کے مجموعی بوجھ میں 11300 ارب روپے کے اضافے کے بعد قرضہ36300ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جو کہ جی ڈی پی کا 87فیصد بنتا ہے جبکہ اس رقم میں سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے لیا گیا قرضہ اورواجبات شامل نہیں۔

مالی سال 2017-18 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ25000ارب روپے تھا۔ حکومت کے اپنے اعداوشمار کے مطابق دوبرسوں میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 4600ارب اورمقامی قرضوں میں 6800ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

ملکی معیشت کو سنبھانے کے حوالے سے حکومت کی تمام پالیسیاں مایوس کن ثابت ہوئی ہیں۔جھوٹے نعروں اوروعدوں پر قائم ہونے والی حکومت مسلسل عوام کے ساتھ غلط بیانی کررہی ہے۔ اس بڑھ کر اورحکمرانوں کی نااہلی کیا ہوگی کہ حکومت 11ارب 89کروڑ یومیہ قرضہ حاصل کر رہی ہے۔ تبدیلی کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جارہاہے۔