کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینئر وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہم لاپتہ افراد کے معاملے کو ایک بار پھر عدالتوں میں لے جائیں گے جیسا کہ ہم لاپتہ افراد کے لئے قائد سردار اختر جان کے ساتھ 2012 میں سپریم کورٹ گئے تھے ساجد ترین نے کہا کہ حکمران لاپتہ افراد کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ وہ اس کا درد نہیں جانتے ہیں۔
بلوچستان کی مائیں اور بیٹیاں اتنے دنوں سے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کر رہی ہیں لیکن نااہل حکمران سوئے ہوئے ہیں ساجد ترین کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیے بغیر ہم بلوچستان میں امن یا استحکام نہیں لاسکتے ہیں جب میں 2012 میں بطور صدر ہائیکورٹ بار قائد سردار اختر جان کے ہمراہ سپریم کورٹ گیا ۔
تو ہم نے یہ موقف وہاں بھی رکھا بلوچستان نیشنل پارٹی کا تحریک انصاف کی حمایت کرنے کی واحد وجہ لاپتہ افراد کو واپس لانا تھا اور اسی وجہ سے ہم نے اپنی حمایت واپس لی کیونکہ پی ٹی آئی حکومت لاپتہ افراد کو واپس لانے میں ناکام رہی وہی عمران خان جس نے ایک بار کہا تھا کہ اگر میری حکومت میں ایک بھی شخص لاپتہ ہوجاتا ہے تو میں استعفی دوں گا اور کتنی شرم کی بات ہے کہ آج عمران خان اس معاملے پر خاموش ہیں۔
ساجد ترین نے کہا کہ سردار اختر جان اور بی این پی لاپتہ افراد کے معاملے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گی اور اگر گمشدہ افراد کے اہل خانہ کے مطالبات جلد پورے نہیں ہوئے اور تمام لاپتہ افراد کو رہا نہیں کیا گیا تو ہم ایک بار پھر لاپتہ افراد کے لئے عدالتوں میں جائیں گے۔
اگر حکمران واقعی میں بلوچستان میں امن لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو تمام لاپتہ افراد کو واپس لایا جانا ہوگا صرف وہی لاپتہ افراد کے درد کو جانتا ہیں جن کے پیارے کئی سالوں سے لاپتہ ہیں کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلوچستانی کہلوائیں جب تک وہ لاپتہ افراد کے لئے آواز بلند نہ کرسکیں۔