کوئٹہ: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فرمان زرکون نے کہا ہے کہ ماہی گیری کا شعبہ بلوچستان کی معیشت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے،بلوچستان مچھلیوں اور سمندی حیات کے حوالے سے امیر خطہ ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سالانہ 15لاکھ 31ہزار میٹرک ٹن سے زائد مچھلی پکڑی جاتی ہے جو مجموعی ملکی پیدا وار کا 34 فیصد بنتی ہے، صوبے میں پکڑی جانیوالی مچھلی کا 80فیصدمشرق وسطیٰ، وسط ایشیا، جنوبی ایشیااور دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، بلوچستان کے 750کلو میٹر ساحلی علاقے میں تقریباً 40ہزار ماہی گیروں کا ذریعہ معاش اسی شعبے سے وابستہ ہے۔
بلوچستان میں سمندری حیات کی 250 بہترین اقسام پائی جاتی ہیں جو دنیا کیلئے کشش کا باعث ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، فش فارمنگ اور فش پروسسیسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کر کے کثیر منافع کمایا جا سکتا ہے جس سے مقامی ماہی گیروں کی حالت بھی بہتر ہوگی اور بہترین سمندی حیات بیرون ملک برآمد کی سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کی قیادت میں صوبائی حکومت ماہی گیری کے فروغ اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی شعبہ بھی اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کر کے فائدہ اٹھائے۔