|

وقتِ اشاعت :   February 20 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ممبر مرکزی کمیٹی چیئرمین جاوید بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیسکوکی جانب سے کانک کردگاپ پنجپائی منگچر اور علاقوں میں بجلی کی اکیس گھنٹے بندش صرف تین گھنٹے بجلی کی ترسیل وہ بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ دینا قابل مذمت ہے سردار اختر جان مینگل نے جب ان سے فیصلہ کیا تھا تو تین ہزارروپے ماہانہ بجلی کی فراہمی بیس گھنٹہ فیصلہ ہواتھا ۔

جوکم کرتے ہوئے اب نام کی بجلی تک رہ گئے ہیں دنیابدل گیاترقی جدت ٹیکنالوجی کے سفرپرہے جبکہ یہاں بلوچستان مزیداستحصال کی زد میں ہے حکمرانوں نے عوامی محکموں کے توسط سے بلوچستان کوتباہی کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے سرداراخترجان مینگل سے موازنہ کرنے والے صرف بجلی زرعی صارفین کی بنیادپرمقابلہ کریں توکتنا بڑافرق نظرآئی گاکہ جب سرداراخترجان مینگل وزیراعلیٰ تھے۔

توحالات وسائل بھی محدودتھے سبسڈی دیکربلوچستان کے زراعت کوبچایاجبکہ اب نااہل حکمران بجٹ واپس کرکے شاباشی لیتے رہے زمیندار بدحال ہوتے گئے زراعت ختم ہوکررہ گیاہے اور اب تین گھنٹہ بجلی اکیس گھنٹہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جبکہ ریکوری کو جوازبنایاجارہاہے جو کہ جھوٹ اور بے بنیادموقف ہے کیونکہ صرف زرعی دیہی علاقے نہیں بلکہ باقی اضلاع وشہراپی جگہ کوئٹہ جودارلخلافہ وہاں بھی بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ پہنچ چکاہے۔

اصل حقیقت کوچھپایا جارہاہے جواصل میں بجلی کی کمی ہیانہوں مطالبہ کی کہ کیسکوحکام بلوچستان کے ساتھ روارکھے گئے استحصال وناانصافیوں کوبندکرے کانک پنجپائی کردگاپ منگچردیگرگریڈاسٹیشنوں سے بجلی بارہ گھنٹہ زرعی اوربیس گھنٹہ گھریلوں صارفین کو بجلی مہیاکیاجائے بصورت دیگر بی این پی زمینداروں کے جائزمطالبات کیلئے ہرجمہوری جدوجہدمیں بھرپورساتھ دے گی۔