|

وقتِ اشاعت :   February 21 – 2021

کوئٹہ: جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی رہنماء رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ گہرام بگٹی نے کہا ہے کہ ناراض لوگوں سے مذاکرات بھارتی ایجنسی( ر)ا سمیت پاکستان کے خلاف سازش کرنے والی غیر ملکی ایجنسیوں کے راستے روکنے میں معاونت دے گا سی پیک سے بلوچستان کو جو فائدہ ملنا چاہیے تھا و ہ نہیں ملا سوئی ڈیر ہ بگٹی کے عوام سوئی گیس سے محروم ہے۔

سینٹ انتخابات کے لئے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے رابطے میں ان خیالات کااظہار انہوںنے صحافیوں کے وفد سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا سینٹ انتخابات میں اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے کوششیں کررہے ہیں اپوزیشن اور حکومتی نمائندوں سے رابطوں کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جمہوری روایات کے عین مطابق اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے ہم خیال لوگوں سے ووٹ کے اپیل کررہے ہیں ۔

سینیٹ کے انتخابات ہمیشہ ووٹ کی لین دین ہوئی ہے ہم بھی اسی طرز پر ایوان میں موجود سیاسی جماعتوں سے رابطے کررہے ہیں تاہم یہ خوش آئند امر ہے کہ یہاں ان لوگوں کو انتخابات میں مدمقابل لایا جن کا تعلق بلوچستان سے ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان اس لئے کیا تھا کہ ہم ڈیرہ بگٹی کے عوامی مینڈنٹ کی توہین نہیں ہونے دینا چاہتے کیونکہ عام انتخابات میں ڈیرہ بگٹی کے عوام نے جن لوگوں کو مسترد کردیا ہے۔

انہیں ایوان بالا میں بیجھنا ڈیرہ بگٹی کے عوام کے ساتھ انصافی ہے اور ہم اپنے لوگوں کو جواب دہ ہے اس لئے ان کے حقوق کی آواز بنے رہیں گے اگر ہمارے لوگ مطمئن ہوئے تو ہم حکومت کے ساتھ رہیں گے اور اگر ڈیرہ بگٹی کے عوام نے کہا تو اپوزیشن میں چلے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈیرہ بگٹی کا سب سے اہم مسلئہ ان بگٹی قبائل ان کے اپنے علاقے میں آباد کاری ہے۔

جو اس وقت سند ھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مہاجرین کی زندگی گزار رہے ہیں اس کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں اس حوالے وفاقی حکومت نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ بگٹی مہاجرین کی آباد کاری کے حوالے سے وہی پالیسی اختیار کی جارہی ہے جو وزیرستان میں لوگوں کی آباد کاری سے متعلق اختیار کی گئی تھی ہمیں یقین ہے کہ حکومت اس جانب فوری توجہ دے گی۔

کیونکہ اس وقت بھی ڈیڑھ لاکھ گھرانے ڈیرہ بگٹی کو چھوڑ کر مختلف علاقوں میں آباد ہے ہم نے اپنے طور پر ڈیرہ بگٹی کے دو سوہند وگھرانوں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں تاہم اس وقت جتنی بڑی تعداد ملک کے مختلف حصوں میں آباد ہے انہیں واپس ڈیرہ بگٹی لانا اور آباد کرنا حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سی پیک گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے۔

مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اب تک سی پیک سے جو بلوچستان کو حاصل ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ملا لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ سی پیک کے ثمرات بلوچستان کو یکساں میسر ہونے چاہیے تاکہ یہاں کے عوام کی طرز زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے انہوں نے کہا کہ ناراض بلوچ رہنماوں سے مزاکرات ہونے چاہیے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ مزاکرات کرنے والے یہ واضح کرئے کہ وہ اس کے لئے تیار ہے۔

افغانستان سمیت دنیا کے ہر کونے میں جہاں بھی اختلافات پیدا ہوئے ان کا حل مزاکرات سے ہی نکالا گیا اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مزاکرات کے عمل کو تقویت بخشی جائے تو پاکستان کے خلاف کام کرنے والی را اور دیگر ایجنسیوں کے راستے کو روکا جاسکتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں آج امن وامان کی صورتحال ماضی نسبت کہیں بہتر ہے ڈیرہ بگٹی کے عوام طویل عرصہ سے موبائل سروس محروم تھے ہم نے علاقے میں موبائل نیٹ ورک بحال کروایا پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق بھی اہم منصوبوں کو تکمیل تک پہنچادیا گیا ۔

جس کے بعد علاقے میں پینے کے پانی کا 80فیصد مسلئہ حل ہوچکا ہے مگر ابھی سوئی ڈیر بگٹی میں بہت سے مسائل ہے جس میں سب سے اہم ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں گیس کی عدم فراہمی ہے سوئی جہاں سے پورے ملک کو گیس میسر ہے۔

اس علاقے کے عوام خود گیس جیسی نعمت سے محروم ہے اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح ہے کہ جس علاقے گیس نکالی جارہی ہے ان علاقوں کو ترجیحات میں شامل رکھا جائے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں بھی اپنا موثر اور عملی کردار ادا کرئے گی ۔