|

وقتِ اشاعت :   September 30 – 2021

کوئٹہ: پاکستان میں آئینی تحفظ رکھنے والے چند اداروں کے علاوہ ہر قسم کی سرکاری معلومات حاصل کرنا ہر شہری کا حق ہے مگر قوانین ہوتے ہوئے بھی یہ معلومات حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے۔اس کو آسان بنایا جائے کیونکہ پاکستان میں پہلی مرتبہ معلومات تک رسائی کا قانون 2002میں نافظ کیا گیا جبکہ 2014ء میں حکومت نے اس قانون کو موئثر بنانے کے قوائد بنائے۔

ان خیالات کا اظہار اسکیپ بلوچستان اور ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی معاونت سے کوئٹہ میں معلومات تک رسائی کے دن کے حوالے سے ایک آگاہی پروگرام میں مقررین نے کیا ۔ اس دن کے حوالے سے اسکیپ بلوچستان کی آڈیٹوریم میں ایک مذاکرہ منعقد ہوا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمان خصوصی پی ٹی وی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر جناب مصطفٰے مندوخیل اور دیگر مہمانان میں سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ نورخان محمد حسنی ، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند، سابق کنٹرولر کرنٹ افیئرز عبدالقیوم بیدار، اسکیپ بلوچستان کے سی ای او حسن حسرت اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے حاجی کریم اور دوسرے مقررین شامل تھے۔اس دن کی اہمیت کے بارے میں سیرحاصل گفتگو کی۔

مقررین نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا عالمی دن اس مناسبت سے منایا جاتا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ کسی قسم کی معلومات حاصل کرنے والے کو باہم معلومات پہنچائی جائے۔آخر میں مقررین نے اسکیپ بلوچستان اور ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل بلوچستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہ کہ دونوں اداروں نے لوگوں تک معلومات کی رسائی کے حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے مزید پروگرامز منعقد کیے جائیں تاکہ معلومات تک رسائی کے حوالے سے عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی مِل سکے۔

اس پروگرام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومتی معاملات میں عوامی شمہولیت بڑھے گی اور اس سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے حوالے سے میرٹ کو مدِ نظر رکھ کر بھرتیاں کی جاسکیں گی۔مقررین نے کہا کہ معلومات تک رسائی عوام کا حق ہے، اس کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں بہتر اقدامات کریں تاکہ عوام کو اس سے فائدہ حاصل ہو۔