|

وقتِ اشاعت :   October 2 – 2021

کوئٹہ: چئیرمین بی ایس او جہانگیرمنظور بلوچ نیسینٹرل کمیٹی کے رکن ذکریا بلوچ کے ہمراہ نوشکی زون کا تنظیمی دورہ کیا۔ چئیرمین بی ایس او کے اعزاز میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نوشکی زون کی جانب سے بی ایس او کے سابقہ چیئرمین و بی این پی کے سابقہ مرکزی لیبر سیکرٹری چیئرمین منظور بلوچ کے یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کے مہمان خاص چئیرمین بی ایس او جہانگیرمنظور بلوچ و اعزازی مہمانان بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی اراکین ذکریا بلوچ ،آغاالیاس شاہ اور بی این پی نوشکی کے سابقہ ضلعی صدر میرعطااللہ مینگل تھے۔تقریب میں بلوچ قومی سرخیل سردار عطااللہ مینگل کو انکی سیاسی خدمات پر خراج عقیدت پیش کی گئی۔ اجلاس میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے طلبا لہ احتجاج میں شریک بانک ہانی بلوچ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور انہیں بے خراج عقیدت پیش کی گئی۔تقریب سے چئیرمین بی ایس او جہانگیرمنظور بلوچ، بی این پی کے ضلعی ڈپٹی آرگنائزر عنایت بلوچ سابقہ ضلعی صدر میر عطاء اللہ مینگل ضلعی آرگنائزئنگ کمیٹی کے ممبر میر صاحب خان مینگل بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے اراکین حاجی زکریا بلوچ آغاالیاس شاہ زونل جنرل سیکرٹری عیسی بلوچ پریس سیکرٹری زاہد بلوچ جاوید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے شہید چیئرمین واجہ منظور بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انکی فکر و فلسفے کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کا عہد کیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابرین بی ایس او ہی کی پلیٹ فورم سے قومی جدوجہد کا اغاز کرکے بلوچ دھرتی کی سربلندی و راجی حقوق کیلئے جدوجہد کی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت بلوچ نوجوانوں کو دانستہ طور پر تاریکی میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔طاقت اور جبر کے ذریعے قومی سوال کو دبانے کے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں جس کا مقصد بلوچ نوجوانوں میں بیگانگی پیدا کرکے سیاسی جدوجہد سے دستبردار کرانا ہے۔ بلوچ طلبا،سیاسی کارکنان، دانشوروں اور سماجی کارکنان کی جبری گمشدگی ایک المیہ ہے۔ گزشتہ دنوں قلات،زہری،اوتھل سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے درجنوں نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنادیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی خستہ حالی اور بنیادی ضروریات زندگی کے تمام چیزیں بلوچستان میں ناپید ہیں۔ صوبے کے کالجز میں اساتزہ کا بحران ہے۔ نوشکی سمیت بلوچستان بھر میں نوجوانوں کیلئے انقلابی ترقی و تبدیلی کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔بی ایس او جدید علمی بنیادوں پر نوجوانوں کو یکجاہ کرکے انکو قومی سوال اور سیاسی حقوق کی درس دیتی ہے۔تنظیمی کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی جمہود کو توڑ کر نوجوانوں میں شعوری بیداری پیدا کریں۔ بی ایس او تعلیمی اداروں میں طلباء سیاست پر پابندی،کرپشن،اقربا پروری اور شخصی ڈکٹیٹرشپ پر تشویش رکھتی ہے۔ ہمارا جدوجہد تعلیم سے سرشار بلوچستان ہے جہاں نوجوانوں اپنے قومی حقوق کا ادراک کریں۔اجلاس میں فیصلے کئے گئے کہ بی ایس او نوشکی زون کی جانب سے جلد تعلیمی پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔