کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ غیر جمہوری عناصر و حکومت کی خود کی جنگ شروع ہوچکی ہے ٹولہ کھبی یکجا نہیں ہوسکتا ہے لیکن تاریخ ثابت کریگا کہ ٹولہ کو باپ میں کسںطرع یکجا کیا گیا اور کس نے کیا کردار ادا کیا ہے۔
لگتا ہے اب ایک دفعہ پھر سے ماضی قریب کی کہانی دہرائی جارہی ہے۔جب ایک عدم اعتماد کے ذریعے باپ کی تشکیل ممکن ہوا اور اب دوبارہ وہی قوتیں اسمبلی میں ہیں جنھوں نے ماضی قریب کے عدم اعتماد میں ساتھ دیا اور اگر دوبارہ وہی ہونے جارہا ہے تو تاریخ رقم کریگا کہ ایک صف میں کھڑے ہوگئے غیر جمہوری عناصر اور جمہوری عناصر اور فتح جمہوریت مخالف کو ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں جب ایسے منفی اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی خاص مقصد کارفرما ہوتا ہے۔اور وہ مقصد بلوچستان اور عوام مخالف ہی ہوتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوگا بدلنا ہوگا تو مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا جو ووٹ پر قدغن لگاتے ہیں اور ایسے کھٹ پتلی حکمرانوں کو لاتے ہیں۔اس شعور کو پانا ہوگا جو جمہوریت کی روح کو حاصل کرسکیں۔