کوئٹہ: ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر فدا حسین دشتی ، سینئر نائب صدر محمد ایوب مریانی ، نائب صدر امجد صدیقی ایڈووکیٹ نے پاک افغان بارڈر باب دوستی کو تجارت اور پیدل آمدورفت کے لئے کھولے جانے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد سمیت دیگر کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں آئے ہوئے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش سے جہاں صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہی اس سے علاج و معالجے اور دیگر کے لئے آنے والے لوگوں کو بھی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر چمن باب دوستی پر تجارتی ،آمدورفت و دیگر سرگرمیوں کی فعالی خوش آئند ہے اس سے بلوچستان کے ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کو تجارتی مواقع میسرا ٓئیں گی بلکہ یہ بیروزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کا بھی باعث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس ر وز اول سے ہی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین اور مستحکم تجارتی تعلقات کا خواہاں رہا ہے بلکہ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تجارتی تعلقات قائم ہیں بلکہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کو بھی مزید وسعت دی جاسکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان تجارتی اہداف کے حصول کے لئے دوطرفہ کاوشوں کی مزید ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے لئے معاشی ترقی کا بھی باعث بنے گی ۔ انہوں نے کہاکہ پاک افغان بارڈر باب دوستی سے بے شمار لوگوں کا روزگار واستہ ہے اس لئے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و ممبران باب دوستی کھولے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ وہاں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں جاری و ساری رہنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔