حب : بلوچ عوامی موومنٹ کی مرکزی سینئر باڈی کا ایک اہم اجلاس مرکزی آرگنازرئیس نوازعلی برفت ایڈووکیٹ کی زیرصدارت حب میں منعقد ہوا۔ جس میں شرکاء کی باہمی مشاورت سے باقاعدہ ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔ بعدازاں پہلے ایجنڈے بام کی مرکزی آرگنازنگ کمیٹی کی ازسر نو تشکیل کے عین مطابق بام کے مرکزی آرگنازر ریس نوازعلی برفت ایڈووکیٹ نے پارٹی کی مرکزی آرگنازنگ کمیٹی کو تحلیل کردیا۔ بعدازاں شرکا نے باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعے ایک نی مرکزی آرگنازنگ کمیٹی تشکیل دی۔
جس کے مطابق ریس نوازعلی برفت ایڈووکیٹ بام کے مرکزی آرگنازر، اسرار حکیم زہری ڈپٹی آرگنازر، ہیبت خان چکھڑومیڈیا سیل انچارج جبکہ دیگر ممبران مرکزی آرگنازنگ کمیٹی کے لیے غلام جان بلوچ ایڈووکیٹ، اکرام اللہ بلوچ ایڈووکیٹ، نادر خان کھیتران،کامریڈ فقیر بلوچ، نوید عثمان بلوچ کو منتخب کیا گیا۔ دوسرے ایجنڈے پارٹی دفتر کے لیے حب میں مرکزی دفتر کو کھولنے اور اس کو فعال بنانے کے لیے ماہانہ فنڈنگ کا طریقہ کار وضع کیا گیا۔تیسرے ایجنڈے کے تحت پارٹی کے منشور وپروگرام کے عین مطابق بلوچستان میں غربت اور بیروزگاری کو مدنظر رکھتے ہوے بارڈر ٹریڈ کو کھولنے کی باقاعدہ حمایت کی گی۔ جبکہ نااہل حکمرانوں کے خلاف اول دستے کا کردار ادا کرنے کا عزم کیا گیا۔
حب سمیت صوبے بھر میں امن وامان کی ناقص صورتحال اور حکمرانوں کی نااہلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گی۔ اس موقع پر ہندو برادری کے اہم تہوار دیوالی پر بلوچستان میں بسنے والی ہندوبرادری کے لیے مبارکبادی قرارداد جبکہ حکمرانوں کی جانب سے عوام پر مہنگای کا بم گرانے اور ملک کو معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گیں۔ بعدازاں اجلاس سے خطاب کرتے ہوے نومنتخب مرکزی آرگنائزررئیس نوازعلی برفت ایڈووکیٹ نے کہا کہ بام کی سینئر باڈی کا بے حد مشکوروممنون ہوں جنھوں نے بھاری اکثریت سے مجھے بطور آرگنازر منتخب کیا اور دعاگو ہوں کہ بام کے تمام ممبران وبہی خواہ اور بلوچ قوم کی توقعات پر پورا اتر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے۔ غریب عوام دووقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔جبکہ حکمران طبقہ عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک میں ہرطرف انارکی اور افراتفری پھیلی ہوی ہے۔
جس کی ذمہ داری ملک میں غیر جمہوری روایات کو تقویت دینے والی غیرسنجیدہ عوام اور غیر جمہوری قوتوں پر عاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کرپشن کرنے والوں اور اسٹیبلشمنٹ کی جی حضوری کرنے والوں کو ہی اقتدار سونپا جاتا ہے۔ جو ملک کو معاشی طور پر کھوکھلا کردیتے ہیں۔ عوام ایسے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں حکمرانوں نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے اگر ان کو مزید موقع دیا گیا تو خدانخواستہ مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ نومنتخب ڈپٹی آرگنازر اسرار حکیم زہری، غلام جان بلوچ ایڈووکیٹ، اکرام اللہ بلوچ ایڈووکیٹ، نادرخان کھیتران، کامریڈ فقیر بلوچ نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ صوبے میں ایک بارپھر بدامنی اور تخریب کاری کے واقعات عام ہورہے ہیں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور چوری ڈاکے کے واقعات ہورہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے حکمران وزارتوں اور محکموں کے بٹوارے کرنے میں مگن ہیں۔ اپوزیشن بھی محض خانہ پوری کرتے ہوے اس کرپٹ سیاسی نظام میں اپنا حصہ وصول کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ عوامی موومنٹ کی مرکزی آرگنازنگ کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کا مقصد پارٹی کی ممبرسازی، یونٹ سازی اور تنظیم کے عمل میں پیش رفت کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غریب محنت کش کا کوی پرسان حال نہیں ہے۔ جس کا ذمہ دار موجودہ سیاسی نظام ہے۔ جس کو کرپٹ و اسٹیبلشمنٹ کے منظورنظر نام نہاد سیاسی رہنماں نے پراگندہ کردیا ہے۔ملک میں حقیقی جمہوریت، چھوٹے صوبوں کے بنیادی حقوق وصوبای خودمختاری اور محنت کش عوام کو نااہل وکرپٹ حکمرانوں سے چھٹکارہ دلانے کے لیے بام کے پلیٹ فارم پر متحد ومنظم ہوکر شفاف پارلیمانی سیاست کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ بلوچ قوم کے سنجیدہ اور مخلص لکھاریوں اور ترقی پسند انٹی لیکچولز سے توقع ہے کہ وہ بلوچ عوامی موومنٹ میں شامل ہوکر ہماری رہنمای کریں گے۔ اس موقع پر نو منتخب اراکین مرکزی آرگنازنگ کمیٹی سمیت عبدالرحیم مگسی، بابو غلام حیدر بلوچ، سمیع اللہ فاروقی، سلیم جان لانگو، علی دوست رند ودیگر نے شرکت کی۔