کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین جہانگیرمنظور بلوچ نے جامعہ بلوچستان سے دو طالبعلموں کی گمشدگی پر جامعہ انتظامیہ اور حکومتی غیرسنجیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے طلبائگزشتہ تین دنوں سے اپنے لاپتہ ساتھیوں کی بحفاظت بازیابی کے لئے ادارے کے اندردھرنا دے بیٹھے ہیں لیکن اب تاحال معاملے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بڑی تعداد میں سیکورٹی کی موجودگی کے باجود اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا المیہ اور سوالیہ نشان ہے جس سے طلبائاور اساتذہ خود کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ آئے روز نوجوانوں اور طالبعلموں کی جبری گمشدگی سے بلوچستان کے حالات مذید کشمکش اور بے چینی کی جانب دھکیلے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ملکی آئین میں ماورائے عدالت کسی بھی شخص کی گمشدگی جرم کے زمرے میں آتا ہے ہے اگر کسی پر الزام ہے تو ان کیلئے عدالتیں موجود ہیں لیکن یہاں آئے روز ماورائے قانون لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرکے انکے خاندان کو ازیت میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔
طالبعلم فصیح بلوچ اور سہیل بلوچ سمیت بلوچستان بھر سے طلبائکی اغوا نما گرفتاری سے اس وقت تمام تعلیمی اداروں کے طالبعلموں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ چئیرمین بی ایس او نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی گزشتہ تین دنوں سے مسلسل بند ہے اور آج کوئٹہ بھر کے تعلیمی اداروں میں کلاسز کا بائیکاٹ رہا لیکن دو طلبا کی گمشدگی پر جامعہ انتظامیہ اور حکومت کی خاموشی اس مسئلے کو مذید پیچیدہ کرنے کی سبب بن رہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان سے لاپتہ دونوں طالبعلموں کو جلد از جلد بازیاب کرکے طلباء کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔