|

وقتِ اشاعت :   November 28 – 2021

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو چون ویں یوم تاسیس کے مناسبت سے شال، اوستہ محمد، نوشکی، خاران، مستونگ، ٹنڈوجام، جیونی سمیت مختلف زونوں میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ یوم تاسیس کے تقریبات کا انعقاد بنام جامعہ بلوچستان سے لاپتہ دو طالبعلم فصیح بلوچ اور سہیل بلوچ جبکہ بیادِبلوچ قومی سیاست کے سرخیل سردار عطااللہ مینگل کیا گیا۔ مقررین نے تنظیم کی 54 سالہ جدوجہد اور بے قومی قربانیوں پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے بی ایس او کی بلوچ سیاست میں طویل جدوجہد پر روشنی ڈالی۔

تنظیم کی یوم تاسیس پر مرکزی پروگرام بی ایس او جامعہ بلوچستان یونٹ کے سرکل میں منعقد ہوا جس کی صدارت بلوچ اسٹوڈنس آرگنائزیشن کے چئیرمین جہانگیرمنظور بلوچ نے کی جبکہ مہمان خاص سابق چئیرمین جاوید بلوچ اور اعزازی مہمانان سابق چئیرمین نذیر بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے رزاق بلوچ تھے۔ تقریب کی شروعات شہدائے بلوچستان کے یاد میں دومنٹ کی خاموشی سے کی گئی۔ یوم تاسیس کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین بی ایس او جہانگیر منظور بلوچ نے بی ایس او کی تاریخی جدوجہد و اس کے بلوچ قومی خدمات کے حوالے سے کہا کہ اگر بلوچستان میں میں کوئی فرد حقیقی معنوں میں بلوچ قومی سیاست کا حصہ ہے تو یہ بی ایس او کی دی ہوئی سوچ ہے جس کی بنیاد پر بلوچ قومی سیاست اپنی مختلف جبر و لالچ کے باوجود ایک موقف کے ساتھ قومی استحصال کے خلاف دیوار کی مانند کھڑی ہے۔

چیئرمین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس او نے بحیثیت بلوچ طلباء کی سیاسی درسگاہ اس نے مختلف نشیب و فراز اور مختلف آزمائشوں سے گزر کر ابھی بھی اپنی زمہداری پورا کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہمارے درمیان ایک ایسی قوت موجود موجود رہی ہے جسے بلوچ طلباء کی یکجہتی راس نہیں آئی ہے، اسی وجہ سے تنظیم نے مختلف اوقات میں مختلف طرح کے نقصانات کو برداشت کیا ہے۔ انھوں نے طلباء کو سے درخواست کی یہ حالات ہم سے بے اپنی زمہداری پوراکرنے کے تقاضا کرتے ہیں اور ہمیں چاہیے کی کہ بلوچ طلباء اس کٹھن حالات میں قومی سوچ کو پرامن جدوجہد کے ذریعے مظبوطی فراہم کریں۔ دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اکابرین نے بی ایس او کی صورت میں ایک ایسے درسگاہ کا قیام میں لایا جس میں بلوچ نوجوانوں کی زہنی، شعوری اور نظریاتی پختگی کے ساتھ ان میں راجی سنچ کی بیداری کو پروان چھڑایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ بی ایس او نے قیام سے لیکر آج تک نہ صرف بلوچ سماج میں ہونے والے جبر، سیاسی و معاشی استحصال، وسائل کی لوٹ مار پر سیاسی مزاحمت کی بلکہ دنیا کے ہرمظلوم اقوام پر ہونے والے زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی۔ بی ایس او بلوچ سیاسیت کی نرسری ہے۔ ان 54 سالوں کی کھٹن سفر میں تنظیم کو مختلف سازشوں سے تقسیم درتقسیم کا شکار بنادیا گیا لیکن اب بھی بی ایس او بلوچ نوجوانوں کی شعوری آبیاری کیلئے میدانِ عمل میں ہے۔ یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس او بلوچ نوجوانوں کیلئے ایک غیررسمی تعلیمی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔