کوئٹہ: واٹر کنزویشن کمیشن کے چیئرمین احسن صدیقی سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ پانچ سال تک ہم نے پانی کے ذخائز پر توجہ نہیں دی گئی تو نقل مکامی پر مجبور ہو نا ہوگا پانی کا مسئلہ ملک بھر میںہے اس حوالے سے بلوچستان کے تمام اضلاع بھی میں کوئٹہ کے علاوہ پا نی سطحہ دن با دنیچے گررہی ہے اس پر تمام حکومتوں نے لائز پر عمل درآمد کروانے ہوں۔
کیونکہ پانی ہے تو زندگئی ہے یہ بات انہوں محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹریٹ میں اجلاس کے موقع پر کہی یہ واٹرکنزویشن کمیشن 2018 میں وجود میں سپریم کورٹ پاکستان نے لایا جس ہم تمام منرل واٹر کمپنیوں پر لیٹر ایل روپے فلو میٹر چارج کیا جس سالانہ 72 لاکھ لیٹر پانی کوذائع ہونے بچایا ہے اب دوسرے مراحل کے تمام صوبوں کی مدر سے زراعت پر خصوصی گندم اور شرگرملز،ادویات کی فیکٹریاں، اور دیگر پانی سے چلنے والے کاخانے بھی شامل ہوں گے ملک کے تما م صوبوں سے محکمہ آپاشی،واسا،پی ایچ ای،محکمہ ماحولیات اور دیگر اہم اداروں کا اہم کردار ہوگا جو پانی کے لائز پر عمل درآمد کراہے گااس موقع صوبائی سیکرٹری ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی عبدالصبور کاکڑ کا کہنا تھا کوئٹہ اور بلوچستان کے ایسے ضلاع ریڈزون پر ہیں خدانہ کرئے کوئی قدرتی آفات آجائے ہم اسکا سامانہ بھی ہمارے لیئے کرنا مشکل ہو گا۔
توہمیں پانی پر توجہ دینا ہوگئی غیر قانونی بورنگ بند ہونگے اس کی وجہ اس پانی کے ذخائز کم ہورہے دوسرا غیر قانونی طریقے سے واٹر ٹینکرز لاکھوں گیلن آپس پاس آبادیوں نکال کر فروخت کرر ہے ہیں کار واش اسٹیشن اور دیگر پر حکومتوں کی مدد سخت قانونی عمل درآمد کروانے ہونگے اس موقع پرصوبائی سیکرٹری محکمہ آپاشی علی اکبر بلوچ،ڈائریکٹر جنرل کے پی کے ماحولیات ڈاکٹر امجد ،ڈائریکٹر جنرل پنجاب ماحولیات میڈیم عمبرین سجاد،ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عبدالولی کاکڑ ،ڈائریکٹر ماحولیات سندھ عاشق حسین لانگا،واٹر منجمنٹ انجئنیر برکت اللہ،پی ایچ ای کے چیف انجنیئر آغا عمران شاہ،اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل فرید ڈوگر ایڈوکیٹ ،محکمہ ماحولیات ڈائریکٹر محمد علی باتر، ڈائریکٹر ٹیکنکل محمد خان اوتمان خیل اور دیگر افسران شریک تھے