کو ئٹہ: بلوچستان پیس فورم کے سربراہ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سی پیک کی آڑ میں بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ کھیل کھیلا گیا۔ حکومت گوادر کے عوام سے جعلی مذاکرات کرکے انتظار میں ہے کہ وہاں کے لوگ تھک کر اپنے حقوق سے دستبردارہوجائیں۔ نام نہاد منتخب نمائندے نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے لوگوں کے مسائل حل ہوں اس لیے رو پوش ہیں، کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ ان عوامی نمائندوں پر افسوس ہے جو منتخب ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔یہ بات انہوں نے گزشتہ رو ز سراوان ہائوس کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو ہمیشہ سبز باغ دیکھا کر ان کا وقت ضائع کیا گیا ہے ، گوادر میں جاری دھرنا اہل بلوچستان کیلئے پیغام ہے کہ ریاست نے سی پیک کی آڑ میں ایک دفعہ پر بلوچستان کے لوگوں کیساتھ کھیل کھیلا ہے ۔ انہوں نے گوادر میں خواتین کو ایک بہت بڑی ریلی واجتماع منعقد کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے ماہی گیر اورعوام دو ہفتوں سے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، میڈیا کے توسط سے گوادر اور مکران ڈویژن کے عوام ،سیاسی کارکنوں سے مطالبہ ہے کہ وہ گوادر میں جاری احتجاجی دھرنے میں اپناحصہ ڈالیںاور اس تحریک کا دائرہ بلوچستان بھر میں وسیع کریں تاکہ بلوچستان کے لوگ اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوکر ایک باعزت اورباوقار زندگی گزار سکیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کو بلوچستان خصوصا مکران اور ساحلی پٹی کے عوام کیلئے خوشحالی کا پیغام ہونا چائیے تھا۔
تاہم مکران ڈویژن میں جاری احتجاج سے یہ ثابت ہوا کہ سی پیک ساحلی پٹی کے عوام کیلئے زحمت کا باعث بن رہا ہے لوگوں کاکاروبار زندگی ایک حد تک مفلو ج ہوکر رہ گیا ہے ۔ تاہم صوبے پر مسلط سلیکٹڈ اور جعلی حکومت میں ان سے بامقصد مذاکرات کرنے کی صلاحیت ہے نہ ہی جرات،ناعاقبت اندیش حکمران اور ان کے چیلے مسلط شدہ ایجنڈے کو آگے لیکر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گوادر کے عوام سے جعلی مذاکرات کرنے کے بعد کوشش کررہی ہے کہ احتجاج پر بیٹھے لوگ تھک کر اپنے حقوق سے دستبردارہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد منتخب نمائندے نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے لوگوں کے مسائل حل ہوں اس لیے رو پوش ہیں اور کہیں دکھائی نہیں دے رہے ۔انہوںنے کہا کہ ان عوامی نمائندوں پر افسوس ہے جو منتخب ہونے کا دعوی کرتے ہیں عوام کی جاری تحریک نے نہ صرف ان کے غیر منتخب ہونے کی قلعی کھول دی بلکہ انہیں یکسر مسترد کردیا ہے ۔