|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2021

کوئٹہ:  نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے مین سائیٹ پر تعمیرات کا کام فی الفور شروع کیا جائے اس مقصد کے لیئے اس سال ایک ارب روپے کا خطیر رقم مختص کیا گیا ہیے جس کا تا حال ایک پیسہ بھی فراہم نہیں کیا گیا جو جھالاوان کے عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہیے۔ جام حکومت نے منصوبہ کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس مائنڈ سیٹ کے چند بیوروکریٹ اب بھی اس گھناونے عمل میں شریک ہیں۔

نیشنل پارٹی نے واضع کیا ہیے کہ تین دسمبر کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا ٹیم دورہ کریگا۔ قبل ازیں رجسٹریشن کے سلسلے میں پی ایم سی کی ٹیم دو بار دورہ کر چکا ہیے ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل کالج کے مین بلڈنگ کی تعمیر کا کام جس میں تین سو بستر پر مشتمل جدید ہسپتال بھی شامل ہیے کا کام جلد شروع کیا جائے جسے جام حکومت نے بدنیتی کے بنیاد پر روک دیا تھا اور اب تک جام حکومت کے باقی ماندہ بیروکریسی رکاوٹ بن رہیے ہیں۔

شہری ایکشن کمیٹی نے واضع کیا ہے کہ وومن پولی ٹیکنک کی عمارت میں قطعی طورپر میڈیکل کالج مستقل بنیادوں پر کام نہیں کرسکتا ضرورت اس امر کی ہیے کہ جھالاوان میڈیکل کالج کے مین بلڈنگ و تین سو بستر پر مشتمل ہسپتال پر کام جلد شروع کیا جائے بصورت دیگر نیشنل پارٹی بھرپور احتجاج کریگی۔ نیشنل پارٹی نے موجودہ حکومت باالخصوص مٹھی بھر سازشی بیوروکریٹس کو تنبہ کی ہے کہ وہ اپنی سازشوں سے باز آجائیں ڈاکٹر مالک بلوچ دور کسی منصوبے کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔