|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2021

کوئٹہ: بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل ہیلتھ سائنسز نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے منظوری کے بغیر غیر قانونی طریقے سے پیسے بٹورنے کے خاطر بغیر ڈیپارٹمنٹل بلنڈنگ، فیکلٹی ممبر، لیبارٹری اور اور بغیر ہاسٹل کے پانچ سالہ ڈاکٹر آف فزیوتھراپی ڈگری پروگرام کا انعقاد کیا ہے اور بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں ڈی پی ٹی کیلئے ڈیپارٹمنٹل بلڈنگ نہ پونے کی وجہ کلاسس بغیر کسی تعلیمی سہولیات کے سیول ہسپتال کے ایک کمرے میں شروع کی گئی ہے۔ جب کہ سول ہسپتال ایک کلینیکل ہسپتال ہے کوئی ٹیچنگ ہسپتال نہیں۔کلینیکل ہسپتال میں کلاسس کا احتمام کرنا تعلیم کے ساتھ مذاق کے علاؤہ کچھ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے طے شدہ ڈگری پالیسیز کے مطابق کوئی بھی تعلیمی ادارہ بغیر بنیادی ڈھانچے، اسٹاف کے ڈی پی ٹی پروگرام شروع نہیں کر سکتا۔مگر بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے ایچ ای سی کے رولز ریگولیشن کی پامالی کرتے ہوئے پروگرام شروع کردی۔ ادارے میں من پسند افراد کو “لو دو”کے پالیسی کے تحت بغیر پوسٹ ایڈورٹائزمنٹ کے من پسند افراد کو تعینات کیاگیا ہے۔ بولان میڈیکل آف ہیلتھ سائنسز کے ایکٹ کے مطابق کوئی بھی اسٹاف ممبرز بیک وقت دو جگہ نوکری نہیں کر سکتا مگر بدقسمتی ڈی پی ڈی پروگرام کیلئے منتخب ہونے والا پرنسپل، سول سنڈیمن ہسپتال فزیوتھراپی ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ بھی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز خود ہی بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے رولز کے خلاف ورزی کرکے طلباء سے فیس کے نام پر بھاری بھرکم رقم وصول کرنے کے باوجود طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگارہی ہے۔ بی ایس او بلوچستان کے طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے، تعلیم کے نام پر کاروبار اور رولز ریگولیشن کی خلاف ورزی کی اجازت کسی کو نہیں دے گا۔اعلیٰ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں غیر قانونی طریقے سے شروع کرنے والے ڈی پی ٹی پروگرام پر نظر ثانی کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کرے بصورت دیگر بی ایس او طلباء کے مستقبل اور میرٹ کی پامالی و خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔