حب: بلوچ عوامی موومنٹ کے مرکزی آرگنازر ریس نوازعلی برفت ایڈووکیٹ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گوادر پولیس کی جانب سے بلوچ متحدہ محاذ کے سربراہ یوسف مستی خان بلوچ اور بلوچستان کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے خلاف بوگس مقدمہ کا اندراج اور یوسف مستی خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ اوران کے شانہ بشانہ رہنے کا عزم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں دھرنے پر بیٹھے عوام کے ساتھ ہمدردی کرنا اگر جرم ہے تو بلوچ عوامی موومنٹ سمیت بلوچستان کا ہرفرد ن کا حامی ہے سب پر ایف آی آرز چاک کی جایں۔
انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ گوادر سمیت بلوچستان بھر کے عوام کو گزشتہ 74 سالوں سے ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف ایف آی آر چاک کی جاے اور ان کوبھی گرفتار کرکے کڑی سزا دلای جاے۔ انہوں نے کہا کہ یوسف مستی خان ایک بزرگ سیاست دان ہے جس نے ہمیشہ مظلوم و محکوم طبقہ کے بنیادی حقوق کی آواز بلند کی ہے جس پر بغاوت اور غداری کے جھوٹے مقدمات قام کرنا قابل مذمت اور ناقابل برداشت فعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں کو گوادر دھرنا میں بیٹھے عوام سے ہمدردی کرنے والوں سے تکلیف یا پھر کوی پریشانی ہے تو فوری طور پر عوام کے مطالبات کو تسلیم کرلے۔
اگر وہ یہ نہیں کرسکتے تو تنقید کو برداشت کرنے کی جرت کرے کیونکہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماں کا یہ جمہوری حق ہے کہ وہ دھرنوں میں شرکت کرکے متاثرہ عوام کے ساتھ ہمدردی کرے۔ انہوں نے کہا کہ یوسف مستی خان بلوچ اورمولانا ہدایت الرحمن بلوچ محب وطن اور محبان بلوچ قوم ہیں جن کو قوم کا غدار کہنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ بلوچ عوامی موومنٹ بزرگ بلوچ رہنما یوسف مستی خان اور مولانا ہدایت الرحمن کے خلاف بوگس ایف آی آر درج ہونے اور گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور گوادر کے عوام کے دھرنے اور ان کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوے ان کیشانہ بشانہ رہنے کا عزم کرتی ہے۔