|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2022

کوئٹہ:  نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے زریعے جعلی مینڈیٹ حاصل کرنے والے ریکوڈک کو نیلام کرنے کی سازش میں ملوث اسلام آباد سے وفاداری کے سند کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اور اربوں روپے لیکر انٹرنیشنل کمپنی سے ریکوڈک کو سودا کرنے میں لگے ہیںلیکن نیشنل پارٹی ان کے عزائم کو پوری نہیں ہونے دے گا اور ریکوڈک کو غصب کرنے کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان اسلم بلوچ ممبر مرکزی کمیٹی و ضلع صدر کوئٹہ حاجی عطاء محمد بنگلزئی صوبائی ترجمان علی احمد لانگو بی ایس او پجار کے رہنماء شہ مرید بلوچ اور ضلعی جنرل سیکرٹری کوئٹہ ریاض زہری نے نیشنل پارٹی کے مرکزی کال کے تحت ریکوڈک بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مظاہرین نے ریکوڈک بچاؤ تحریک کے بینرز پلے کارڈز اٹھائے رکھے تھے۔اور ریکوڈک کے حوالے سے خفیہ معاہدے و ان کیمرہ اجلاس اور صوبائی حکومت و نام نہاد نمائندوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے قاہدین نے کہا کہ سیاسی جمہوری عمل پر اثرانداز ہونے اور انتخابات میں مداخلت کرکے سیاسی قیادت کو عوام کی نمائندگی سے دور رکھنے والوں کے منفی پالیسیوں کے بدولت ملک اقتصادی بحران میں مبتلا ہے۔

ملک مکمل طور پر دیوالیہ بن چکا ہے۔جس کی وجہ سے ملک کو عملاً آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا ہے اور کل سٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ملک کا اصل حکمران آئی ایم ایف بن گیا۔قائدین نے کہا کہ ناقص بصیرت و غیر سیاسی نمائندوں کی ناقص کارکردگی نااہلیت کے بدولت حکمران بلوچ قومی وسائل ریکوڈک کو خفیہ انداز سے کوڑیوں کے دام فروخت کرکے ملک کے معاشی نظام کو چلانا چاہتے ہیں۔جو کسی طور پر قابل قبول نہیں۔نیشنل پارٹی کسی کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ وفاق کے تنخواہوں اور ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ریکوڈک کو ہڑپ کرے۔وفاق نے کھبی بھی بلوچستان کے ساتھ نہ معاشی انصاف کیا اور نہ ہی سیاسی انصاف کیا۔

سیندک پروجیکٹ کو بھی وفاق و پنجاب نے لوٹ مار کا نشانہ بنا دیا گیا،سیندک سے بلوچستان تو دور چاغی کو کچھ نہیں ملا الٹا دھماکوں سے تابکاری اثرات نے کینسر سمیت موذی مرض کو آماجگاہ بنالیا۔بلوچ ساحل گودار کو سی پیک کا محور قرار دینیوالوں نے گودار میں ترقی تو کجا ماہی گیروں کا روزگا بھی چین لیا۔انہو ں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ بلوچستان حکومت میں موجود نام نہاد نمائندے تو ہمیشہ غیر جمہوری عناصر کے آلہ کار رہے ہیں۔لیکن اسمبلی میں موجود نام کی حد تک اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی ہیں۔جو اس بات کی واضح نشاندھی ہے کہ وہ بھی ریکوڈک کی سودا بازی میں برابر شریک ہیں۔مقررین نے کہا کہ کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ اب بلوچ وسائل کو لوٹنے کی سازش کریگا اور نیشنل پارٹی خاموش رے گا۔نیشنل پارٹی قومی وسائل پر ایسی عوامی تحریک شروع کریگی جو ان خفیہ معاہدہ کرنے والوں کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔