|

وقتِ اشاعت :   January 30 – 2022

کوئٹہ: پاکستان ور کرز فیڈریشن بلوچستان جنرل سیکر ٹری پیر محمد کاکڑاسلام شاہ شمس خلجی ناصر راہی حاجی افضل مینگل حاجی خدائے رحیم بابو خورشید ریسانی حاجی علی گل اصغر لودھی آغا ذلفقارشاہ محمد عمرنے کہا ہے کہ حکو مت کے جانب سے کم سے کم اجرت بڑھانے کے باوجود مارکیٹ کمیٹی کے ملازمین کونہیں دی جارہی ہے کم سے کم اجرت پر عمل در آمد کی جائے ۔

انھوں نے کہا کہ2018سے حکومت کی طرف سے کم سے کم اجرت15000 سے بڑھاکر 17500کردی گئی تھی لیکن کوئٹہ ہزارگنجی کے مارکیٹ کمیٹی اور بی ڈی اے کے ملازمین کو اجرت وہی 15000مل رہی تھی 2021میں حکومت نے کم سے کم اجرت بڑھاکر20ہزار کرنے کے باوجودئٹہ ہزارگنجی کے مارکیٹ کمیٹی کے ملازمین کو وہی 15000اجرت مل رہی ہے جو غریب ملازمین کے ساتھ سر اسرظلم اور بے انصافی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ بے تحاشا مہنگائی سے مزدور طبقہ سخت متاثر ہواہے 15000اجرت ملنے سے ملازم کے15دن گھریلوں ضروریات پوری نہیں ہوتی ہے پوری اجرت نہ دینا ظلم اور بے انصافی ہے انھوں نے کہا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مارکیٹ کمیٹی کے ملازمین کو کم سے کم اجرت 20ہزار دی جائے اور 2018سے جو بقایاجات ہے وہ بھی ادا کی جائے جو ملازمین کا تسلیم شدہ حق ہے ۔

انھوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کم سے کم اجرت 25ہزاری کی جائے اگر حکومت نے کم سے کم اجرت کی فیصلے پر عمل در آمد نہیں کیا تو پاکستان ور کرز فیڈریشن بلوچستان ہرفورم پر احتجاج اور آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت سے بھی رجوع کرے گے ۔