|

وقتِ اشاعت :   March 27 – 2022

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے ہماری حکومت گرانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہتے ہیں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے یہ سب ڈرامہ این آر او کےلیے ہے، حکومت جاتی ہے تو جائے،جان جاتی ہے جائے مگر انہیں معاف نہیں کروں گا۔

اسلام آباد کے پریڈ گراونڈ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امر بالمعروف جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ  وہ اپنی قوم کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں،پاکستان کے ہر کونے سے لوگ یہاں ہیں ، انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنے پارلیمنٹ کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہیں انہیں لالچ دیا گیا،انہیں خریدنے کی کوشش کی گئی مگر وہ یہاں موجود ہیں۔

آج بہت اہم باتیں اور دل کی باتیں کرنی ہیں، پاکستان ایک نظریئے کے تحت بنا تھا، وہ ایک اسلامی فلاحی ریاست تھی۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ دین کو سیاست کے لیے کیوں استعمال کرتے ہیں۔ میرا ایک مقصد تھا کہ پاکستان جس نظریئے کے تحت بنا تھا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں بھی بڑے عرصے بعد نظریہ پاکستان کا پتہ چلا۔ مغربی معاشرے کو سمجھنے پر سجمھ آیا کہ فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے۔

برطانیہ میں عام آدمی کے لیے مفت علاج، مفت تعلیم اور بے روزگاروں کو الاونس ملتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ فلاحی ریاست کے سفر پر چل نکلے ہیں، عوام کے لیے ہیلتھ کارڈ لے کر آئے ۔پہلی بار نچلے طبقے کو اوپر لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ ٹیکس کا پیسہ قوم پر خرچ کریں گے، امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ کریں گے۔پانچ سال مکمل ہوئے تو سب دیکھیں گے کہ غربت میں تاریخی کمی ہوئی۔ ہمارا ٹیکس بڑھا تو 250 ارب کی سبسڈی دے کر پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے بجائے 10 روپے کم کی اور بجلی کی قیمت 5 روپے یونٹ کم کی، جیسے جیسے ٹیکس جمع کرتا جاؤں گا ایسے ہی اپنی قوم پر خرچ کرتا جاؤں گا۔

وزیراعظم عمران  خان نے کہا ہے کہ تین چوہے ملک کو لوٹ رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں این آر او دوں، یہ سب  ڈرامہ این آر او کے لیے ہے۔میرا نبی کا فرمان ہے کہ تمھارے سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئی جہاں چھوٹے چور کو جیل میں ڈالتے تھے اور بڑا ڈاکو چوری کرتا تھا تو اس کو این آر او دیتے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا مریم بی بی نے کبھی ایک گھنٹہ کام نہیں کیا، بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ انہیں نیب نے بلایا تو وہ رو پڑیں گے۔

ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ 30 سال سے حکومت میں تھے کیا کبھی انہوں نے کبھی آنے والی نسلوں کا سوچا۔ ہم10 ارب  درخت اگا کرآنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل چھوڑ کر جائیں  گے

ان کے بچے تو لندن میں ہیں، وہاں گھر اور محلات خرید رہے ہیں، انہیں کیا فکر ہو گی۔

پاکستان کو دنیا کا ٹورازم سنٹر بنانا ہے، آسٹریا سے بات کی ہے، سکردو کو پاکستان کا سکینگ کیپٹیل بنائیں گے ۔

ملک میں سیاحت کو اٹھا کر دکھاوں  گا، پیسہ لا کر دکھاوں گا، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کروں گا۔

عمران خان نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ 27 مارچ کے جلسے میں قوم اور اپوزیشن کو بڑا سپرائز دیں گے۔