صنعاء: یمن کے دارالحکومت صنعاء میں نماز عید کے دوران مسجد میں 2 دھماکے ہوئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دونوں دھماکے خود کش تھے، جو کہ الصفیہ ڈسٹرکٹ میں البلیلی مسجد مسجد میں کیے گئے۔
مسجد حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں واقع ہے …فوٹو: بشکریہ یمن پوسٹ
البلیلی مسجد پولیس اکیڈمی کے قریب واقع ہے جبکہ یہ علاقہ حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کیرپورٹ کے مطابق نماز عید کے دوران مسجد میں دھماکوں سے 29 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
مسجد میں نماز عید کی ادائیگی کیلئے نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔
دھماکے کے بعد فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کی گئیں جبکہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے … فوٹو : رائٹرز
دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی بھی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
سی این این کے مطابق اس مسجد کو گزشتہ 3 ماہ میں چھٹی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی یمن میں مساجد میں دھماکے ہوتے رہے ہیں جس کی ذمہ داری داعش اور القاعدہ قبول کرتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے ستمبر 2014 میں قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مسجد حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں واقع ہے …فوٹو: بشکریہ یمن پوسٹ
البلیلی مسجد پولیس اکیڈمی کے قریب واقع ہے جبکہ یہ علاقہ حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کیرپورٹ کے مطابق نماز عید کے دوران مسجد میں دھماکوں سے 29 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
مسجد میں نماز عید کی ادائیگی کیلئے نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔
دھماکے کے بعد فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کی گئیں جبکہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے … فوٹو : رائٹرز
دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی بھی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
سی این این کے مطابق اس مسجد کو گزشتہ 3 ماہ میں چھٹی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی یمن میں مساجد میں دھماکے ہوتے رہے ہیں جس کی ذمہ داری داعش اور القاعدہ قبول کرتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے ستمبر 2014 میں قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔