|

وقتِ اشاعت :   May 25 – 2022

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی کال پر پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے کارکن  اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں جبکہ کراچی میں نمائش چورنگی پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان چھڑپیں ہوئی ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے قافلے کے ہمراہ صوابی سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کیا اور اب وہ پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں۔

اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں، اب اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے، امپورٹڈ سرکار کا جبر و فسطایت کا کوئی حربہ ہمیں ڈرا نہیں سکتا ، نہ ہی یہ ہمارے مارچ کا راستہ روک سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہر شہر میں لوگ باہر نکلیں، یہ پاکستان کیلئے فیصلہ کن وقت ہے، میں اسلام آباد پہنچ رہا ہوں، سب کو پیغام دیں کہ ہمیں کسی کی غلامی قبول نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ کردیا ہے کہ کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

اسلام آباد اور پنڈی کے لوگ ڈی چوک پہنچیں، عمران خان

سپریم کورٹ نے حکم کچھ دیا، عمران نے مطلب کچھ اور لیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے عوام کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کردی۔

عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے کہ اب کوئی رکاوٹ اور پکڑ دھکڑ نہیں ہو گی، اسلام آباد اور پنڈی کے لوگ ڈی چوک پہنچیں۔

حالانکہ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ڈی چوک نہیں، ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان گراؤنڈ میں جلسہ گاہ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

کارکنوں کو چھوڑ کر شیخ رشید اسلام آباد پہنچ گئے، ذرائع

لال حویلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شیخ رشید کا  لال حویلی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد جانا منسوخ ہوگیا ہے، کارکنان ان کی راہ دیکھتے رہے، شیخ رشید اسلام آباد پہنچ گئے۔

ڈی چوک پر تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود

ڈی چوک پر تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے، کارکنان نے جناح ایونیو کے اطراف میں جگہ جگہ آگ لگا رکھی ہے، کارکنان نے شیلنگ سے بچاؤ کیلئے پانی کا انتظام بھی کیا ہوا، پی ٹی آئی کارکنان ریلی کی صورت میں ڈی چوک پہنچ رہےہیں۔

پرویز خٹک بھی ریلی کے ہمراہ ایچ نائن اور جی نائن رکنے کی بجائے ڈی چوک روانہ ہوگئے ہیں۔

کسی نےریڈزون کےقریب آنےکی کوشش کی تو سختی سے نمٹا جائے گا، آئی جی اسلام آباد

آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں کسی کو آنے کی ہرگز اجازت نہیں، کسی نےریڈ زون کےقریب آنےکی کوشش کی توسختی سےنمٹاجائےگا۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دیگر مقامات پر پولیس افسران قوت استعمال نہ کرے، مظاہرین سے بھی اپیل ہے کہ وہ پرُامن رہیں،مظاہرین پولیس پر پتھراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔

اداروں سے ادب سےگزارش ہے فتنےکے ہاتھ مضبوط نہ کریں، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہےکہ عوام نے عمران کو زناٹےدار تھپڑ مارا جس کی گونج ہرجگہ سنائی دی، اداروں سے ادب سےگزارش ہے فتنےکے ہاتھ مضبوط نہ کریں، یہ روایت مت ڈالیں کہ جو ڈرائے دھمکائےگا اسی کے حق میں فیصلہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح ان کےاحکامات کوپاؤں تلے روندا گیا، عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈی چوک جائیں گے، عمران خان اداروں پر شرمناک حملے کر رہےہیں، یہ شخص ہر قیمت پر فتنہ و فساد چاہتا ہے، یہ روایت مت ڈالیں کہ جو ڈرائے دھمکائےگا اسی کے حق میں فیصلہ دیں۔

دیکھتے ہیں کتنے دن پولیس لگاتے ہو، فواد چوہدری

رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے مریم نواز کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیا ہے کہ ‏مریم نواز جھوٹ کی دیوی ہیں، میں رات سے کشمیر اور جہلم کے بارڈر  پر آنسو گیس اور پولیس کا سامنا کر رہا ہوں، مریم نواز فرمارہی ہیں میں اسپیکرہاؤس میں امپورٹڈحکومت سے مذاکرات کر رہا تھا، انشااللہ اب صرف مقابلہ ہوگا، کوئی مذاکرات نہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر لوگ نہیں نکلے تو  پورا پاکستان کیوں بند کیا ہوا ہے؟ پنجاب سے سیکڑوں لوگ کیوں حراست میں ہیں؟ دیکھتے ہیں کتنے دن پولیس لگاتے ہو؟ اگر یہ ٹیسٹ میچ ہے تو ٹیسٹ ہی سہی، دیکھتے ہیں زور کتنا بازوۓ قاتل میں ہے، ‏جنگ رہے اور امن بھی ہو۔۔۔ کیا ممکن ہے تم ہی کہو؟ الیکشن سے کم کوئی بات نہیں ہو گی، جدوجہد جاری رہے گی پیچھے کوئی نہ ہٹے۔

سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کو ایچ نائن کے گراؤنڈ میں جلسہ گاہ فراہم کرنے کا حکم

تحریک انصاف ڈی چوک پر آکر الیکشن کے اعلان تک دھرنا دینا چاہتی ہے جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی جلسہ کرکے واپس چلی جائے دھرنے پر نہ بیٹھے۔

اس معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایچ نائن کے گراؤنڈ میں جلسہ گاہ فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایسا پلان دیں کہ مظاہرین پرامن طریقے سے آئیں اور احتجاج کے بعد گھروں کو لوٹ جائیں، یہ نہ ہو جلسے کے بعد فیض آباد یا موٹروے بند کر دی جائے۔

عدالت نے حکم دیا کہ 3گھنٹے میں پی ٹی آئی کے جلسے کیلئے ایچ نائن جلسہ گاہ میں سکیورٹی انتظامات مکمل کیے جائیں، حکومتی کمیٹی اور پی ٹی آئی کی کمیٹی کا اجلاس چیف کمشنر آفس میں رات 10 بجے کیاجائے۔

سپریم کورٹ نے یہ بات بھی واضح کی کہ کسی بھی وقت عدالتی حکم میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے اور حکم واپس بھی لیاجاسکتا ہے۔ 

کراچی میں پولیس موبائل نذر آتش، کئی اہلکار زخمی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے سلسلے میں کراچی کی نمائش چورنگی پر بھی کارکن جمع ہوئے جہاں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔

کراچی میں نمائش چورنگی پر شام کو کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس موبائل کو نذرآتش کردیا جبکہ پتھراؤ سے ایس پی سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی تاہم مظاہرین کی تعداد مزید بڑھتی گئی۔ شارع قائدین پر خداداد کالونی چورنگی اور نورانی چورنگی پر بھی ہنگامہ آرائی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کےکارکنان کے پتھراؤ سے غیرملکی خبرایجنسی کے فوٹوگرافر آصف حسن زخمی ہوئے۔

جیو نیوز کےکیمرہ مین ناصر علی بھی پتھر لگنے سے زخمی ہوگئے۔

مظاہرین نے بلیو ایریا میں درختوں اور گاڑیوں کا آگ لگادی

پولیس ذرائع کے مطابق مظاہرین نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں درختوں اور گاڑی کو آگ لگادی۔ 

پولیس نے آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ کو طلب کرلیا ہے، کچھ جگہوں پر لگی آگ بجھادی گئی ہے۔

ریڈ زون کی سکیورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔

لاہور کو دوسرےشہروں سے ملانے والے6اہم اوربڑے راستےمکمل طور پر بند

 لاہور میں ٹھوکر نیاز  بیگ کے مقام پر پولیس نے موٹر وے بند کرکے بعض ٹرک ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

 لاہور کو دوسرےشہروں سے ملانے والے 6 اہم اوربڑے راستےمکمل طور پر بندکر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سےکوئی گاڑی شہر سےباہر نہیں جا پا رہی، پولیس کی بھاری نفری لوگوں کو ایک جگہ جمع بھی نہیں ہونے دے رہی۔

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز  کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش سے شہریوں کی مشکلات کا پورا احساس ہے، مشکلات پر شہریوں سے معذرت خواہ ہوں، ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے اقدامات کیے ہیں، بڑے قومی مقصد کے حصول کیلئے ایسی تکلیف کوئی حیثیت نہیں رکھتی، عمران خان اوران کے حواری وطن عزیز کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، دھرنا سیاست یا مارچ سے پاکستان کو آگے نہیں لے جایا جا سکتا۔