|

وقتِ اشاعت :   June 8 – 2022

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ 30 سال سے تاخیر کا شکار 250 ارب مالیت کے چشمہ رائٹ بنک کنال منصوبے کو شروع کیا جا رہا ہے جسکی 65 فیصدرقم وفاقی حکومت ادا کرے گی۔

گزشتہ دور میں ترقیاتی منصوبوں کو التواء کا شکار کیا گیا۔بلوچستان میں زیر التواء منصوبوں کے لیے بھرپورفنڈنگ کررہے ہیں۔گوادر میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ستمبر تک پائپس کا کام مکمل کیا جائیگا۔گزشتہ حکومت نے9 میں سے 5 خصوصی صنعتی زونز پر کام ہی نہیں شروع کیا۔نئے بجٹ میں جاری منصوبوں کے لیے ترقیاتی فنڈ رکھا جائے گا۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر برائے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ 250 ارب مالیت کے چشمہ رائٹ بنک کنال منصوبے کے لیے65 فیصد رقم وفاقی حکومت ادا کرے گی جبکہ اس منصوبہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کیلئے ہے۔

چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبہ سے خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں زراعت میں اضافہ ہوگا، منصوبہ کی 65 فیصد رقم وفاقی حکومت اور 35 فیصد صوبائی حکومت ادا کریگی، یہ پرانا منصوبہ تھا اور سی ڈی ڈبلیو پی نے اس کی منظوری دیدی ہے، احسن اقبال نے مزید بتایا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 900 ارب روپے کی رقم کی منظوری دی گئی ہے، 2018 میں ایکنک کے ذریعے 480 ارب روپے کی منظوری لی گئی تھی جبکہ گزشتہ حکومت نے اس پر کام نہیں کیا گیا۔

اور منصوبہ کی لاگت میں اضافہ ہوا،گزشتہ حکومت نے تاخیر سے اس منصوبہ پر 2018 والی لاگت سے کام شروع کیا،اس منصوبہ کیلئے اضافی مالی ضروریات کا بندوبست کیا جائیگا، کوئٹہ کراچی سڑک کو دورویہ کرنے کیلئے ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے، وزیر اعظم نے اس سڑک کی جلد تکمیل کی ہدایت کی ہے،بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر کیلئے اگلے سال کے بجٹ میں رکھا جائیگا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید بتایا ہے کہ بلوچستان میں 100 میگاواٹ توانائی منصوبہ کیلئے ایران سے گفت و شنید جاری ہے اور مکران میں بجلی کے مسئلے میں اس منصوبہ سے کمی آئیگی۔اس موقع ہر احسن اقبال نے مزید بتایا ہے کہ گوادر میں پانی کے مسائل کے حل کیلئے وزیر اعظم نے چین سے بات چیت کی گئی، گوادر میں چین نے صاف پانی کی فراہمی کیلئے موبائل ڈیسیلنیشن پلانٹ لگانے کی حامی بھری ہے،گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو مارچ 2023 میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گوادر میں یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے اور دوسال میں منصوبہ مکمل ہوگا، سی پیک کو تیز اور جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا،احسن اقبال نے مزید بتایا ہے کہ گزشتہ دور میں بڑے منصوبوں کیلئے فنڈز رکھے گئے تھے لیکن کام نہیں ہوا،ایم ایل ون کو ایک سال میں مکمل کیا جائے گا، ایم ایل ون منصوبہ پچھلے چار سال میں سرد خانے میں چلا گیا تھا۔

ایم ایل ون منصوبہ کی لاگت پر دوبارہ نظر ثانی کی جائیگی،گزشتہ حکومت نے 500 ارب روپے کے بجٹ میں سے ایس ڈی جیز میں 68 ارب روپے رکھا ہے،ہم نے 800 ارب روپے پی ایس ڈی پی میں سے 60 ارب روپے رکھے ہیں۔پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا ہے کہ نارووال سپورٹس کمپلیکس سیاست کی نذر ہوا اور فنڈنگ نہیں کی گئی۔

عمران خان نے سے اس منصوبہ میں ہونے والے والا نقصان وصول کریں گے وہاں توڑ پھوڑ کی گئی ہے اس کا حساب لیا جائے گا ہم نے پی ایس ڈی پی کا محتاط تخمینہ لگایا ہے، احسن اقبال نے مزید بتایا ہے کہ 2017-18 میں ایک ہزار ارب روپے کی پی ایس ڈی پی چھوڑ کر گئے تھے جبکہ وزارت خزانہ نے چوتھی سہ ماہی میں ایک روپے بھی ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے، ایسا قیام پاکستان سے لیکر اب تک نہیں ہوا تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا،پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس میں جکڑے ہوئے ہیں آئی ایم ایف کا معاہدہ پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ حکومت پاکستان سے ہے۔