وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ آئین عمران خان کی سمجھ سے باہر ہے یہ باتیں ان کے اوپر سے نکل جاتی ہیں۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نوری آباد ریفرنس میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے سیاسی مخالفین کیخلاف بےبنیاد کیس بنائے، مجھ پر جس پلانٹ کی بنیاد پر کیس بنایا گیا وہ آج بھی چل رہا ہے، یہ پلانٹ سستی بجلی دے رہا ہے جس سے کے الیکٹرک بجلی لیتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس میں 22 پیشیاں ہوچکی ہیں، عدالت نے آج بھی نئی تاریخ دے دی ہے، ایک پیشی پر 17 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، اور اگر وکلا کی فیس شامل کریں تو پیشیوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ہمارا جو اتنا نقصان ہو رہا ہےاس کا احتساب بھی ہوگا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہیں، پارلیمنٹ نے اپنا کام کر دیا ہے، صدرِ مملکت اگر دستخط نہیں کریں گے تو دسویں دن نیب بل خود قانون بن جائے گا، آئین عمران خان کی سمجھ سے باہر ہے یہ باتیں ان کے اوپر سے نکل جاتی ہیں، صدر اگر اپنی ذمہ داری سے شناسا ہوں گے تو بہت اچھا ہوگا، صدر صاحب صدرمملکت بن کر دکھائیں، اور کسی ایک شخص کی مرضی پر نہ چلیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف کو غلط طریقے سے نکالا گیا، جب کہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے آئینی طریقے سے نکالا گیا، عمران خان کی نظر میں نوازشریف اور یوسف گیلانی کو ٹھیک نکالا اور انہیں غلط، آئین اور قانون عمران خان کو سمجھ نہیں آتا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان کے دور میں جو کچھ ذہن میں تھا انہیں بتاتا رہا، ان سے کہتا تھا آپ سندھ کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں، انہیں اپنی نااہلی، ناتجربہ کاری نظر نہیں آتی، انہوں نے ساڑھے 3 سال حکومت کی اور چلے گئے، انہیں خود پتہ نہیں کہ کیا ہوا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت کے سارے دعوے غلط تھے، ایک شخص کی کم عقلی اور نااہلی کے باوجود بھی بہت سے لوگ اس کے پیچھے چل رہے ہیں، ان میں وہ بھی ہیں جو 5 بار پارٹیاں تبدیل کر چکے، دیکھتے ہیں وہ کب تک ان کےساتھ چلتے ہیں۔