|

وقتِ اشاعت :   July 13 – 2022

کراچی کے قدیم باسیوں میں صرف پارسی، ہندو، سکھ اور عیسائی ہی نہیں بلکہ یہودی بھی شامل تھے جن کے آثار میوہ شاہ میں موجود ان کے قبرستان میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

کراچی  ایک ایسا شہر جس کی تیز زندگی اور ان گنت مسائل اس کے تاریخی پس منظر کو دن بدن ماند کررہے ہیں۔

شہر کے تاریخی ورثے میں صرف برطانوی دور کی عمارتیں نہیں بلکہ میوہ شاہ قبرستان میں یہودی مذہب کے ماننے والوں کی 5 ہزار قبریں بھی ہیں جہاں 19ویں صدی سے لے کر 50 کی دہائی تک یہودی گھرانے اپنے پیاروں کو دفناتے تھے۔

 

 اگر آپ کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن کی گلیوں سے واقف ہیں تو یقیناً آپ کو سولومن ڈیوڈ روڈ کے بارے میں معلوم ہوگا، سولومن ڈیوڈ 1902 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے ایک آفیشل تھے جنہوں نے کراچی کے واحد یہودی ہیکل کی بنیاد رکھی تھی۔ 

وہ بھی انہی 5 ہزار قبروں کے درمیان دفن ہیں۔ ان مقبروں کو سنبھالنے والوں کا کہنا ہے کہ یہاں لوگ قبروں کا دورہ تو کرتے ہیں لیکن ان قبروں کی حفاظت کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔

سوال یہ ہے کہ کراچی کے بیچ و بیچ گنجان آبادی میں موجود یہ تاریخی ورثہ حکومت کی نظر سے کیسے اوجھل ہے؟ کیوں اب تک سندھ حکومت نے اسے آثار قدیمہ کا درجہ نہیں دیا؟

یہودی تو عرصہ ہوا یہ سرزمین چھوڑ گئے لیکن ان کے بعد پیچھے رہ جانے والی یہ نشانیاں گواہ ہیں کہ کراچی کی رونقوں کو سنبھالنے میں کئی اقوام، کئی مذاہب اور کئی ثقافتوں کی محنت شامل ہے جسے محفوظ رکھنا اب حکومت کی ذمہ داری ہے۔