|

وقتِ اشاعت :   July 29 – 2022

پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کیلئے پاکستان تحریک انصاف  کے امیدوار سبطین خان اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سیف الملوک کھوکھر کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا اور اب ووٹوں کی گنتی شروع ہے۔

اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق  اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا اور اسی لیے انتخاب میں موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اسمبلی سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ  پریس گیلری میں بھی فون لے جانے کی اجازت نہیں۔

دوسری جانب ن لیگ نے اسپیکرکے انتخاب اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پرتحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے چیف وہب نے پینل آف چیئرمین اور سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے نام خط لکھ کر تحفظات سے آگاہ کیا۔

خط کے متن کے مطابق ہمیں اسپیکر کے الیکشن میں اسمبلی اسٹاف کے طرزعمل پر تحفظات ہیں، الیکشن آئین کے پیرامیٹرز، انتخابی قوانین، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور پولیٹیکل پارٹیزایکٹ کےتحت کروایا جائے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر کے الیکشن میں اسمبلی اسٹاف کا رویہ ہر حال میں نیوٹرل ہونا چاہیے۔