|

وقتِ اشاعت :   February 12 – 2023

کراچی:زمان بلوچ کو تربت بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے دو دن گزرنے کے بعدتاحال ان کاکوئی پرسان حال نہیں، سکیورٹی اداروں اور عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے کی جانب سے شنوائی نہ ہونے کے باعث اپنا کیس میڈیا پر لا رہے ہیں۔

کراچی پریس کلب میں زمان بلوچ کے اہلخانہ نے بلوچ فار وائس مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا 10 فروری کو زمان بلوچ کو تربت بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جب سے زمان لاپتہ ہیں ہم کربناک عالم سے گزر رہے ہیں اور اُن کی راہ تھک رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران اہلخانہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا

کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ زمان کو جبری طور گمشدہ کیا گیا بلکہ اس سے پہلے بھی زمان بلوچ اور اس کے بھائی ماجد بلوچ کو 9 جون 2020 کو سکیورٹی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا جنھیں چھ ماہ شدید تشدد کا شکار بنانے کے بعد رہا کیا گیا۔ اب دو دن قبل زمان بلوچ کو ایف سی اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے ماورائے عدالت زمان بلوچ کو ایک بار پھر جبری طور پر لاپتہ کیاہے۔ مخصوص دورانیہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ہمیں معلوم نہیں کہ سیکورٹی اداروں نے انھیں کہاں پر رکھا ہے اور ان کی جسمانی حالت کیسی ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ سکیورٹی ادارے مسلسل ہمارے خاندان کو ہراساں کر رہے ہیں اور ہمارے خاندان کے افراد کو ٹارگٹ کرتے ہوئے جبری طور پر گمشدہ کر رہے ہیں۔

جمعہ کے روز زمان کو جبری گمشدگی کا شکار بنانے کے بعد سکیورٹی اداروں نے ایک بار پھر ہمارے گھروں کی چادر و چار دیواری کی پامالی کی، عورتوں اور بچوں کو ہراساں کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا،

قیمتی املاک کی توڑ پھوڑ کی گئی۔انہوں نے کہاکہ ہماری فیملی کو عرصہ دراز سے مختلف ہتھکنڈوں سے تنگ کیا جارہا ہے،پانچ روز قبل ہمارے ایک فیملی ممبر کو موٹر سائیکل چلاتے تربت بازار میں ایف سی نے گاڑی سے ٹکر مار گرانے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا،ہم جمہوری لوگ ہیں

ملک کے آئین و قانون کے مکمل پابند ہونے کے باوجود ریاستی اداروں کا نارواسلوک ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ہم تمام مقتدر قوتوں اور سکیورٹی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو مزید ہراساں کرنا بند کیا جائے اور تمام تر ظلم و جبر کا نوٹس لیں بصورت دیگر ہم احتجاج کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں –