|

وقتِ اشاعت :   1 hour پہلے

لاہور/کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے برباد ہو چکے ہیں، کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا۔ عاصم منیر ، شہباز شریف بڑے آدمی ہوں گے لیکن پاکستان سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں ملک میں آئین بالادست، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو، تمام فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہوں۔آئین کا راستہ روکنا پاکستانی کی بنیادوں کو ہلانے کے مترداف ہے ۔

 

ناانصافیوں سے ملک نہیں چلائے جاسکتے ،یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ یہاں ہر سویلین ادارے میں ایک وردی والا بیٹھاہواہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں میری بہنیںہیں وہ بغیر کہے میرے پاس آتی ہیں۔ میں بغیر کہے ان کے پاس جاتا ہوں۔ ابھی ان کی اطلاع آئی تھی کل، کہ اگر لاہور میں ہیں چائے ہمارے ساتھ پیو۔ وہ ہمارا اپنا گھر ہے۔ ہر بات کا تو میں جواب نہیں دیتا۔ یہ‘یلو جرنلزم’والے لگے ہوئے ہیں، محمود مراعات لے رہا ہے۔ کون سی مراعات؟۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں عمران خان کے بغیر سیاست کا تصور ناممکن ہے اور پی ٹی آئی کا تصور قطعی ناممکن ہے عمران خان کے بغیر اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کو سائیڈ لائن کردیا جائے گا، منظر سے ہٹا دیا جائے گا تو یہ اسکی بیوقوفی ہے۔

 

عمران خان پاکستان کی سیاست کا واحد محور ہے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم آخری دم تک اس کے ساتھ وفا نبھائیں گے۔ عمران خان کے ساتھ پاکستانی قوم کھڑی ہے۔ وہ اس ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہے ۔ ہم پاکستان کے مزدور، کسان، اور ہر طبقے کو کہتے ہیں عمران خان کی رہائی میں تمہاری آزادی ہے آؤ ہمارا ساتھ دو، تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی، ظلم جتنا بڑھ جائے جیت حق اور سچ کی ہوتی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یاد رکھو آپ لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو مارا، وہ قلندر بن گیا۔ اب ذوالفقار علی کی قبر، اُس کی بیٹی کی قبریں، اُس کے بچوں کی قبریں حکمرانی کریں گی سارے علاقے پر۔ ابھی یہ کام تُم نے عمران کے ساتھ کرنا ہے؟ خدا کو مانو، رحم کرو اس ملک پہ۔ یہ ملک ہمارا ہے، آپ کا ہے فوجی بھائی، آپ کا ہے پولیس والو، آپ کا ہے فلاں، مہربانی کریں(Enough is enough)۔”پاکستان کو قید خانہ بنانا بند کریں! غلط خارجہ پالیسی، ’آئینی مارشل لاء‘ اور سندھ کے پانی پر ڈاکوئیے نے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ 1940 کی قرارداد کے وفاقی یونٹس کو چھیڑنا ریاست کی بنیادوں پر وار ہے۔ حقوق غصب کرنے سے نہیں، مساوات سے ملک چلے گا۔

 

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے بات کرنی ہے، ہم پاگل نہیں ہیں۔ ہم جلسے کریں گے، جلوس نکالیں گے، یہ ہمارا وعدہ، ہم کسی کو گالی نہیں دیں گے۔ کسی کو بھی۔ ہر ایک کی ماں ہماری ماں ہے۔ گالی گلوچ ہمارا حصہ نہیں رہا۔ اور اگر آپ نے یہ تماشہ شروع کیا، جو آپ نے ڈی چوک پہ بیس، تیس آدمیوں کو مارا، شہید کیا، پھر یہاں لبیک والوں کو مارا، پھر اہلِ تشیع کو چہلم منا رہے تھے ان کو مارا، اگر یہ طریقہ ہے تو پھرI warn You، جب بھی عوام اور افواج میں لڑائیاں ہوئی ہیں، افواج ہار جاتی ہیں۔ اپنے عوام کو مجبور مت کرو کہ وہ بندوقیں اٹھائیں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اخبار میں آتا ہے مہمند میں پندرہ خوارج کو مار دیا گیا۔

 

فلانی جگہ میں دس۔ پاگل ہو گئے ہو؟ پندرہ آدمی مارنے کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم تیس فیملیز کو آپ نے ناراض کر دیا۔”محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری تجویز یہ ہے آپ اعلان کر دیں اس سندھی والوں کو بیٹا، کہ بھائی سندھی مانو اللہ پاک نے جو آپ کے وطن میں نعمتیں پیدا کی ہیں، ساحل و وسائل، سارا آپ کا نہیں۔ فی الحال آپ کے بچے کا۔ یہ پشتون ، بلوچ ، سرائیکی اور پنجابی سے کہیں، پھر بھی اگر کوئی بندوق اٹھاتا ہے اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ آپ بیمار ہم بیمار۔ کیوں گڑ بڑ کر رہے ہو؟ چومکھی لڑائی، افغانستان سے لڑائی، ایران سے نفرت۔ آپ لڑے تھے، ہندوستان سے تین دفعہ آپ لڑے ہیں۔ لیکن ہندوستان کے بارڈر پر تجارت ہو رہی ہے۔ کوئی چین نہیں لاہور واہگہ کے درمیان کوئی چین نہیں۔ لیکن سارے پشتون بلوچ وطن میں زاہدان سے لے کر کہاں تک؟ افغانستان رک جاتے تھے، خود اپنے آپ کو پالتے تھے اب یہ پابندی لگائی۔ وسائل پہ آپ قبضہ کریں گے، اجتماع کا حق آپ نہیں دیں گے، پارٹیاں بننے آپ نہیں دیں گے تو پھر آپ خود ہی اس ملک کو خطرناک خانہ جنگی کی طرف بڑھا رہے ہیں۔ ہم یہ عیاشی کسی کو کرنے نہیں دیں گے۔ ہم خانہ جنگی بھی نہیں کریں گے لیکن عوام کی مدد سے دوسروں کا بھی ہاتھ روکیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *