|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2016

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے قیام امن کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کی حصول کے لئے ہر ممکن کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کو مل جل کر لڑنا ہوگا ، پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے جبکہ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ایوان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس مکمل طور پر غیر سیاسی ہوچکی ہے اور فرنٹیر کور بلوچستان حکومت نے ہی طلب کی ہے تاکہ امن وامان کے مسائل پر قابو پایا جاسکے ۔ان خیالات کا اظہار اراکین نے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کی لائی گئی تحریک التواء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا ۔ اپوزیشن رکن انجینئر زمرک نے کہاکہ بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ موجود ہے اور یہ پھر سے سر اٹھارہا ہے یہ کافی پیچیدہ مسئلہ ہے نواب بگٹی کے واقعہ کے بعد مسئلے نے شدت اختیار کی پورے ملک میں حالات خراب تھے خیبر پختونخوا میں حالات خراب تھے اور کراچی میں اس سے بھی زیادہ خراب تھے مگر پھر سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر اس حوالے سے کامیابی حاصل کی مگر اب کچھ عرصے سے بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پھر شدت اختیار کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم کو ٹھیک کرنا ہوگا جب پولیس اور لیویز ہے تو پھر ایف سی کیوں بیٹھی ہے اس کا مطلب ہے پولیس ٹھیک نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں مزید ڈسپلن اور اصلاحات لانی ہوں گی ۔ انہوں نے سابق صوبائی وزیر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق کے بھائی کے کلینک پر حملے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چمن میں اس طرح کے واقعات عام ہورہے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ یہ جو واقعات ہورہے ہیں راہداری کی وجہ سے ہیں یہ عجیب بات ہے اقتصادی راہداری کا بڑا حصہ تو پنجاب میں ہے ہمیں راہداری ملتی بھی نہیں اور اسی اقتصادی راہداری کی وجہ سے میرے بچوں پر اور میری سیکورٹی فورسز پر حملے بھی ہوتے ہیں ، پنجاب میں ایک پٹاخہ بھی نہیں پھٹتا ، بلوچستان کو اس کا حق دیا جائے ۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہم اپوزیشن کے اراکین بھی حکومت کے ساتھ ہیں اورپیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ سپوژمئی اچکزئی نے کہاکہ امن وامان کا مسئلہ ہمیں ورثے میں ملا ہے اس کی روک تھام کے لئے ہمیں تجاویز دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دہرا معیار ترک کرنا ہوگا ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ دہرا معیار ترک کرکے ہمیں دشمنی یا دوستی جو بھی کرنی ہے کلیئر کٹ کرنی چاہیے ۔ ہمیں سچ بولنا ہوگا ۔ شاہدہ رؤف نے کہا کہ امن وامان کے مسائل پر قابو پانے کے لئے مل جل کر اقدامات کرنے چاہیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا مشترکہ کنٹرول روم ہونا چاہیے ۔ اداروں کے مابین کوآرڈنیشن کو بڑھانا ہوگا ۔ انٹیلی جنس شیئرنگ روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور وفاقی وزیر داخلہ کو باقاعدگی سے بلوچستان آنا چاہیے ۔ امن وامان پر بحث میں نصراللہ زیرے ، رحمت صالح بلوچ ، سردار عبدالرحمن کھیتران اور دیگر اراکین نے بھی حصہ لیا ۔ بحث کو سمیٹے ہوئے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہاکہ فرنٹیر کور کو بلوچستان حکومت نے اپنی مدد کے لئے بلایا ہے قیام امن کیلئے ایف سی نے قربانیاں دی ہیں اور ہم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو ہم نے سو فیصد غیر سیاسی کردیا ہے ۔ ڈھائی سالوں کے دوران پولیس میں جو بھی بھرتیاں ہوئی ہیں اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں رہا ۔ ٹرانسفر پوسٹنگ میں بھی ہم کچھ نہیں کرتے پولیس حکام خود کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ دور گزر گیا جب وزراء کے بھائی اغواء برائے تاوان میں ملوث ہوتے تھے امن وامان کے مسئلے پر اراکین اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ بھی دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قوتوں کی نظر بلوچستان پر ہیں اقتصادی راہداری ، معدنی وسائل اور سرحدات اس کی وجوہات ہیں یہ ایک چیلنج ہے اور ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں قیام امن کیلئے فورسز نے فعال کردار اد اکیا ہے اور فورسز کو اقدامات کیلئے حکومت ہی کہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اداروں کے مابین بھر پور کورآرڈنیشن ہے ڈھائی سال قبل ہی ہم نے ایک فیوژن سیل بنادیا تھا ۔ اراکین کے اظہار خیال کے بعد تحریک التواء نمٹادی گئی ۔ بلوچستان اسمبلی کا آئندہ اجلاس منگل 15 فروری کو منعقد ہوگا۔