ژوب: پشتون آج بھی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے تخت لاہور نے سی پیک کے منصوبہ چھین کر پشتون وطن کو محروم رکھا اتحاد و اتفاق میں پشتونوں کی بقا ہے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سردار اصغرخان اچکزئی ملک محمد عثمان اچکزئی اوردیگر نے ضلع شیرانی کے علاقے دریخان زئی میں اے این پی ضلع شیرانی کے صدر ملک مان اللہ حریفال کے صاحبزادے ڈاکٹر عبید اللہ حریفال کی شادی کی تقریب ولیمہ سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضامحمد رضا نے بھی خطاب کیا ضلع شیرانی کے صدر ملک امن اللہ خان حریفال نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر حاجی نظام الدین کاکڑاے این پی ژوب کے صدر محمد انور مندوخیل چیرمین ڈسٹرکٹ کونسل سلطان شیرانی ڈاکٹر فضل الدین شیرانی اور دیگر بھی موجود تھے دعوت ولیمہ میں قبائلی عمائدین سرکاری افیسران سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی مقررین نے ڈاکٹر عبیداللہ کو شادی پر اور ملک امان اللہ حریفال سے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد ی اورکہا کہ موجودہ وقت میں پشتونوں کی اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے اگر پشتون اب بھی متحد نہ ہوئے تو مشکلات و مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ پشتون آج بھی کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں پشتونوں کو جنگجو دہشت گرد اور انتہا پسند کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے پشتونوں کی خون کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے پشتون وطن کی خوشحالی و سلامتی اور ترقی کیلئے آواز بلند کرنے والوں کی زبانیں ہمیشہ کیلئے بند کر دی گئی تقریباً پانچ ہزار پشتون مشران علما اور لیڈر شہید کرا دئیے گئے پشتونوں کی وطن انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہے ہمارے نام پر ڈالر وصول کئے جا رہے مگر آج تک پشتون وطن اور پشتونوں کو کچھ نہیں ملا انہوں نے کہا کہ68 سالوں کے بعد پشتون وطن کی قسمت بدلنے کیلئے آنے والے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے بھی تخت لاہور نے پشتون وطن کو محروم کر کے منصوبے کولاہور منتقل کر دیا پنجاب کے شہر لاہور میں بننے والے اورنج ٹرین اور میٹر ومنصوبے سی پیک کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ہمیشہ تخت لاہور نے حقوق ہم سے چھین ہمیں محروم رکھا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف پشتون ہونے کی سزا دی جا رہی ہے پنجابی سندھی اور بلوچ اس طرح کے معاملات پر ایک اور متحد ہوتے ہیں مگر ایک پشتون ہے جو مختلف ناموں پر تقسیم ہوتے چلے آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والی خودمختاری بھی تخت لاہور کو راس نہیں آئی انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر پشتونوں نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہ کیا اور متحد نہ ہوئے تو مزید مشکلات کا شکار اور اپنے حق سے محروم رہینگے ۔