کوئٹہ: وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں طلبہ و طالبات کے لئے اسکوٹی اسکیم کے اجراء کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی ہر باصلاحیت اور پوزیشن ہولڈر طالبہ کو پنک اسکوٹی دیں گے۔
اس اسکیم سے اساتذہ، طالب علم اور ملازمت پیشہ خواتین بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
ماہانہ اقساط پر اسکوٹی اسکیم کی پالیسی تشکیل دی جاررہی ہے جس کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔
جمعہ کو گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج کوئٹہ کی 50 طالبات کو پنک اسکوٹیز کی فراہمی کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار طالبات کے لئے پنک اسکوٹی اسکیم متعارف کرارہے ہیں۔
کوئی بھی طالبہ اس سے محروم نہیں رہے گی۔
بلوچستان میں خواتین کو بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں۔
مائیں بہنیں بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوکر معاشرے کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی تو ہمارا معاشرہ آگے بڑھے گا۔
خواتین کی ترقی کا خواب حقیقی روپ اختیار کر رہا ہے۔
آج بلوچستان میں 5 خواتین ڈپٹی کمشنر تعینات ہیں جو 30 مرد ڈپٹی کمشنرز سے اچھا کام کررہی ہیں اور ان کی کارکردگی نمایاں ہے۔
ہر شعبہ زندگی میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
وزیر اعلٰی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف منظم سازشیں ہورہی ہیں۔
مختلف ممالک سے سوشل میڈیا اور آرٹیفیشل اینٹیلی جنس کے ذریعے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی جاررہی ہے۔
غیر متوازن ترقی کو لیکر ریاست کے خلاف نوجوانوں کو بھڑکایا جارہا ہے۔
نوجوان دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھیں، کسی بھی ملک، صوبے یا علاقے میں ترقی کا یکساں پیمانہ نہیں ہوتا۔
گرلز ڈگری کالج کوئٹہ کا موازنہ گرلز ڈگری کالج ڈیرہ بگٹی سے نہیں کیا جاسکتا، غیر متوازن ترقی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پائی جاتی ہے۔
اس مسئلے کو ہمارے ہاں ریاست سے متنفر کرنے کے لئے استعمال کیا جاررہا ہے۔
نوجوان جھوٹے پروپیگنڈوں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سمیت عملی اقدامات کے ذریعے مسترد کردیں۔
وزیر اعلٰی نے کہا کہ مستونگ میں معصوم طالب علموں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، ہزارہ کمیونٹی اور بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی بچیوں کا خون بہایا گیا۔
دہشت گردی کی ان تمام کارروائیوں کے باوجود ہمارے تعلیمی ادارے آباد ہیں۔
نوجوانوں کی مدد سے دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے اور اپنے تعلیمی ادارے ویران ہونے نہیں دیں گے۔
طالب علم اور نوجوان کرپشن کے خلاف اپنے والدین کو آگے بڑھنے پر قائل کریں۔
نوکری کے لئے کسی کو پیسے نہ دیں۔
اگر کوئی رشوت طلب کرے تو اسکی ویڈیو بنائیں اور ہم تک پہنچائیں۔
کرپشن میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنائیں گے۔
وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اسمبلی میں پہلے روز وعدہ کیا تھا کہ کوئی نوکری نہیں بکے گی، الحمدللہ ہم اپنے وعدے کی تکمیل کررہے ہیں۔
معاشرے کا ہر غریب امیر باعث عزت ہے۔
پشین میں میرٹ کے باعث ایک سوئپر کی بیٹی کو سرکاری ملازمت ملی جس کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
پورے صوبے میں میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں، بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں تاہم مواقعوں کی کمی ہے۔
نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرکے ان کے گلے شکوے اور ریاست سے دوری ختم کریں گے۔
وزیر اعلٰی نے طالبات کو مخالف کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے خلاف نوجوانوں نے میرا بازو بننا ہے، میرا ساتھ دینا ہے۔
وعدہ کرتا ہوں کہ ایک روشن مستقبل کے لئے ایسی درست سمت کا تعین کریں گے جس سے نوجوانوں کی مایوسی ختم ہو اور وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج کوئٹہ میں پروفیسر ناظمہ طالب ایجوکیشن بلاک کی فوری تکمیل اور کالج میں آسٹرو اسٹف کا اعلان بھی کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔
صوبے میں تعلیمی اصلاحات کے تسلسل سے تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا اور تعلیم نسواں کی شرح میں اضافہ ہوگا۔
تقریب میں ادارے کی پرنسیپل پروفیسر سعدیہ فاروقی نے پنک اسکوٹیز اور لیپ ٹاپ فراہمی سمیت پروفیسر ناظمہ طالب ایجوکیشن بلاک کی تعمیر اور ادارے کی سرپرستی پر وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار اعلان کردہ اقدامات پر بہت مختصر وقت میں عمل درآمد ممکن ہوا جس کا سہرا میر سرفراز بگٹی کے سر جاتا ہے۔
کالج انتظامیہ اور والدین میر سرفراز بگٹی کے شکر گزار ہیں۔
تقریب کے اختتام پر وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قرعہ اندازی کے ذریعے 50 بچیوں کے نام نکالے جن میں سے 48 بچیوں کو موقع پر پنک اسکوٹیز دے دی گئیں۔
جبکہ آخری 2 بچیوں کو آئندہ ہفتے اسکوٹیز فراہم کردی جائیں گی۔
تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی، صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج کوئٹہ کی پرنسیپل پروفیسر سعدیہ فاروقی سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رکن قومی اسمبلی میر عثمان بادینی، صوبائی وزراء میر شعیب نوشیروانی، میر ظہور بلیدی، میر سلیم کھوسہ، میر صادق عمرانی، قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری، کے ہمراہ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما رکن صوبائی اسمبلی حاجی میر زابد علی ریکی کے دعوت پر واشک کا دورہ کیا۔
ڈی سی کمپلکیس میں ڈپٹی کمشنر واشک منیر احمد درانی نے بریفنگ دی، چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی بلوچستان و دیگر سرکاری آفیسران بھی موجود تھے۔
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی نے ڈی ایچ کیو حویلی میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واشک کے لوگ محب وطن ہیں، تاہم واشک شدید پسماندگی کا شکار ہے۔
پورا بلوچستان میرا گھر ہے مگر پسماندہ واشک میری ترجحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیئے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ واشک میں ڈی ایچ کیو اسپتال کے فنڈز کا درست استعمال نہیں ہوا ہے جسکی تحقیقات کے لیئے سی ایم آئی ٹی ٹیم بھیجیں گے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔
انھوں نے کہا بسیمہ کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا جائیگا۔
اجتماع سے ایم پی اے و خادم واشک حاجی میر ذابد علی ریکی نے خطاب کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا واشک آمد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ واشک کی پسماندگی کے خاتمے کے لیئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
واشک میں روڑوں کی حالت درست نہیں ہوئے ہیں، ضلع میں سالوں سے کئی سکول اپ گریڈ نہیں ہوئے ہیں۔
ضلع میں بی ایچ یوز کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشک کے عوام پرامن اور سچے ہیں لیکن غربت کے لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ناگ واشک بسیمہ ماشکیل شاہوگیڑی اور واشک کے عوام کو موجودہ صوبائی حکومت سے اجتماعی اقدامات کی توقع ہے۔
اجتماع سے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب جان نوشیرانی نے بھی خطاب کیا، جبکہ سابق چئیرمین میونسل کمیٹی حاجی میر بشارت اللہ آلہ زئی
نے سپانامہ پیش کی۔
جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولوی غلام اللہ نے انجام دی، جبکہ تلاوت کلام پاک حافظ قاہر علی نے پیش کی۔
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفرازخان بگٹی نے بسیمہ کو ٹاون کمیٹی کا درجہ دیکر بسیمہ کے لیئے دس کروڑ ڈسٹرکٹ کونسل کے لیئے دس کروڑ، جبکہ ٹاون کمیٹی واشک کے لیئے دس کروڑ، واشک کے فنڈز میں سالانہ ایک ارب بسیمہ کے لیئے اے ایریا کے قیام کا اعلان کر دیا۔
Leave a Reply