|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2025

کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں پروگرام کی موجودہ صورتحال اور اس کی آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو بلوچستان کے باہنر نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے لئے بھیجنے کے پروگرام کو حتمی شکل دینے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ ہفتے نوجوانوں کا پہلا بیج سعودی عرب روانہ ہوگا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ سرکاری سطح پر پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا پروگرام ہے جو بلوچستان سے شروع ہونے جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں کہ آئندہ پانچ سال کے دوران 30 ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لئے بھیجیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پروگرام پر عمل درآمد میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرکے پروسس کو تیز کیا جائے۔

اس ضمن میں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے منتخب نوجوانوں کے ویزہ اور پاسپورٹ پروسس کو سہل اور تیز بنایا جائیا۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال جون تک 2375 نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے لیے بھجوانے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔

منتخب امیدواروں کے پیشگی طبی ٹیسٹ سرکاری تشخیصی لیبارٹریوں میں کرائے جائیں اور نوجوانوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو اسلام آباد میں غیر ضروری طویل انتظار سے بچایا جائے اور یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تمام مراحل میں میرٹ کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ پروگرام میں امیدواروں کے اہلیت ٹیسٹ اور انتخاب کے عمل کو تیز کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے تمام درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے اور آپریشنل بجٹ کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام نوجوانوں کی معاشی ترقی اور زر مبادلہ کے حصول کا ایک مثالی پروگرام ثابت ہوگا۔

اجلاس میں مشیر محنت و افرادی قوت سردار غلام رسول عمرانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، پرنسیپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری لیبر نیاز احمد نیچاری، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون، ڈی جی بی ٹیوٹا طارق جاوید مینگل اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نئے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کیو ڈی اے اسکر خان نے وزیر اعلیٰ کو مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور شہر کی ترقی کے لیے جاری و مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کیو ڈی اے کو ایک منافع بخش اور مالی طور پر خود مختار ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے ہدایت دی کہ اتھارٹی کو اس انداز میں چلایا جائے کہ وہ اپنے وسائل خود پیدا کر سکے اور حکومتی گرانٹس پر انحصار کم سے کم ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید شہروں میں ترقیاتی ادارے اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرتے ہیں، اور کیو ڈی اے کو بھی اسی ماڈل پر استوار کیا جائے گا۔

شہر کی خوبصورتی اور عوامی سہولت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے قابل عمل اور دیرپا منصوبوں کی تیاری کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کے لیے پائیدار حکمت عملی اختیار کی جائے اور ایسے منصوبے بنائے جائیں جو نہ صرف شہریوں کے لیے فائدہ مند ہوں بلکہ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ کریں۔

وزیر اعلیٰ نے کیو ڈی اے کے مجوزہ پبلک پارک کے بنیادی ڈیزائن کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عوامی ضروریات کے مطابق جدید طرز پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ پارک میں عوام کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اسے ایسا تفریحی مقام بنایا جائے جہاں شہریوں کو معیاری وقت گزارنے کے مواقع مل سکیں۔

پارکنگ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ اس پہلو پر خاطر خواہ منصوبہ بندی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ترقیاتی منصوبوں میں پارکنگ کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے، لہٰذا کوئٹہ میں بھی اس کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ شہریوں کو پارکنگ کے مسائل سے نجات مل سکے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مفاد عامہ کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس محدود وسائل ہوتے ہیں، اس لیے پرائیویٹ سیکٹر کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کیو ڈی اے کو ہدایت دی کہ وہ ایسے منصوبے ترتیب دے جو نجی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہوں اور اس شراکت داری کے ذریعے عوام کو جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ کوئٹہ کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ کوئٹہ کو ایک جدید اور خوبصورت شہر میں تبدیل کیا جا سکے۔

اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری کیو ڈی اے اسفندیار کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی حافظ عبدالباسط، پرنسیپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فیصل خان و دیگر حکام بھی موجود تھے۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت محکمہ منرلز اینڈ مائینز کا ایک اہم اجلاس منگل کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں محکمہ کی مجموعی کارکردگی اور مائینز ایریا میں سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے غیر رجسٹرڈ مائینز کی رجسٹریشن کا حکم دیتے ہوئے اس اقدام کو مائینز کے شعبے میں شفافیت اور قانونی حیثیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دیا۔

انہوں نے رائلٹی ریٹس پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کی تاکہ مائینز سے حاصل ہونے والی آمدن علاقے اور مقامی لوگوں کی ترقی کے لئے خرچ کی جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو ریونیو حاصل ہوگا وہ اسی علاقے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا اور مقامی بلدیاتی اداروں کے ذریعے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے مائینز سیکٹر کے حوالے سے کہا کہ اس شعبے میں حکومت کے اخراجات آمدن سے زیادہ ہیں، لیکن چونکہ اس سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، حکومت سیکورٹی اور بہتری کے منصوبوں کے لئے وسائل فراہم کرے گی۔

وزیر اعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کو دکی مائینز ایریا میں سیکورٹی کے لیے 200 جوان خالصتا میرٹ پر بھرتی کرنے کی ہدایت دی۔

اس کے علاوہ، انہوں نے فوری مینجمنٹ کے تحت لورالائی پولیس کے جوانوں کو دکی میں تعینات کرنے کا حکم دیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دکی سمیت مائینز ایریا میں امن و امان کی بحالی کے لئے ایف سی، پولیس اور لیویز کی مربوط رابطہ کاری ضروری ہے اور ان تینوں اداروں کو مل کر علاقے میں امن کی بحالی کے لئے اپنی خدمات فراہم کرنی ہوں گی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر مائینز اینڈ منرلز و خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسیپل سیکرٹری بابر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ شہاب الدین، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری، اسپیشل سیکرٹری مائینز و متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے بلوچستان اسٹریٹجی سمٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 220 ارب روپے کے محدود ترقیاتی وسائل کے ساتھ پاکستان کے 43 فیصد رقبے پر مشتمل بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں بیشتر مسائل ترقیاتی منصوبوں (PSDP) کی مس مینجمنٹ کی وجہ سے ہیں اور پی ایس ڈی پی بک پر پی ایچ ڈی کی جا سکتی ہے۔

گزشتہ سال 78 فیصد ترقیاتی اسکیموں کو ٹیکنیکل اپروول کے بعد بجٹ کا حصہ بنایا گیا، اور حکومت پرعزم ہے کہ آئندہ بجٹ میں 100 فیصد منظور شدہ منصوبے بجٹ کا حصہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی شرح 40 فیصد رہی، تاہم موجودہ حکومت میں پہلی بار فروری میں یہ شرح 68 فیصد تک جا چکی ہے اور قوی امید ہے کہ جون تک 90 سے 92 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے عالمی سرمایہ کاری کے حوالے سے کہا کہ ڈیوس میں ایک امریکن نے انہیں بتایا کہ میکسیکو کے حالات بھی بلوچستان جیسے تھے لیکن انہوں نے بزنس مواقع ضائع نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھی میکسیکو کے ان تجربات سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کاروباری برادری اور عالمی و قومی غیر سرکاری اداروں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں، کیونکہ حکومت اکیلے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک بزنس کمیونٹی اور سرمایہ کار آگے نہیں آئیں گے، عام آدمی سردی میں ٹھٹھرنے اور گرمی میں جھلسنے کے مصائب سے دوچار رہے گا۔

ریکوڈک کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بیرک گولڈ کارپوریشن کے سربراہ نے ان سے ذخیرہ آب کے لیے اراضی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان خود ڈیم بنا کر انہیں پانی فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ نوکنڈی، ریکوڈک سمیت مختلف علاقوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان میں سرمایہ کاروں کو انڈسٹریل اسٹیٹ، ہاؤسنگ اسکیمیں اور جملہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے یقین دلایا کہ بلوچستان بینک کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، اور بحیثیت وزیر اعلیٰ حلف اٹھانے کے ساتویں روز انہوں نے اس بینک کے قیام کی ہدایت دی تھی۔

کنسلٹنٹ نے ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ جمع کرا دی ہے، اور مزید پیش رفت جاری ہے، جس سے بزنس کمیونٹی کو مالی امور میں آسانیاں میسر آئیں گی۔

تب تک بلوچستان حکومت کے خود مختار ادارے نجی بینکوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔

مائننگ سیکٹر پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو اس شعبے سے خاطر خواہ ریونیو نہیں مل رہا، تاہم اس کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مائننگ سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اور اگلی نشست میں جب ملاقات ہوگی، تب مائنز کو باقاعدہ انڈسٹری کا درجہ حاصل ہوچکا ہوگا۔

اس سے مائنز کے مزدوروں کی ورکرز ویلفیئر بورڈ میں رجسٹریشن بھی ممکن ہوگی اور مائننگ لائسنس کے اجرا میں آسانی پیدا کی جائے گی۔

انہوں نے توانائی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سولر اور ونڈ انرجی پر کام جاری ہے، کیونکہ بلوچستان میں ایشیا کا بہترین ونڈ کوریڈور موجود ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سولر پارک بنائے جا رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو کارخانے لگانے کے لیے حسب ضرورت بجلی اور گیس کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

حکومت 49 میگاواٹ تک بجلی خود بنا سکتی ہے، اور سولر پارک کے ذریعے کاروباری طبقے کو سستی بجلی دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی پی ایس ڈی پی کے ذریعے 2 لاکھ 39 ہزار 570 نوکریاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے گورننس کے ماڈیول کو مشکل قرار دیتے ہوئے اس کی بہتری کے لیے حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا اعادہ کیا۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کے تحت ہر سہولت فراہم کی جائے گی، اور کوئی بیوروکریٹک رکاوٹ یا ریڈ ٹیپنگ نہیں ہوگی۔

سرمایہ کار آئیں، حکومت انہیں زمین دے گی اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی ایف سی میں چیمبرز آف کامرس کی نمائندگی ضروری ہے، لیکن اس فورم پر نامزدگی ایک مروجہ طریقہ کار کے تحت ہوتی ہے۔

اس حوالے سے بلوچستان حکومت وفاقی حکومت کو مراسلہ ارسال کرے گی۔

وزیر اعلیٰ نے اسٹ

یک ہولڈرز سے کہا کہ وہ صوبے کی ترقی کے لیے ایک بیانیہ ترتیب دیں اور اس پر عمل درآمد کی حکمت عملی وضع کریں تاکہ بلوچستان ترقی کے اس سفر میں مزید تیزی سے آگے بڑھ سکے۔