|

وقتِ اشاعت :   June 24 – 2025

چمن: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ حکمرانوں مقتدرقوتوں اسٹبلشمنٹ جن کے دہری شہریت ہے ان کے پاکستانی شناختی کارڈمنسوخ کیے جائیں دوہری شہریت والے پاکستان کے وفاداررہے یاامریکہ وبرطانیہ کے۔

کوئٹہ میں حقوق کیلئے پرامن ملازمین پرتشددلاٹھی چارج گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں سرمایہ لٹیروں شہزادوں کے بجائے ملازمین کے جائزمطالبات تسلیم کیے جائیں۔چمن گوادرسمیت بلوچستان کے بارڈرہمسائیہ ممالک ایران افغانستان سے آمدورفت تجارت کیلئے فوری کھول دیے جائیں معمول قانونی تجارت کرنے والوں کیلئے راستے بارڈرزبندجبکہ اسلحہ منشیات دونمبرکاروبارکرنے والوں سے رشوت بھاری رقوم لیکرعزت سے راستے وبارڈرزان کیلئے کھول دیے جاتے ہیں ان مظالم رشوت لوٹ مارتباہی وبربادی کے راستے بندکرنے یوں گے۔

قبائلی عوام تاجربرادری حقوق کے حصول ظلم وزیادتی کے خلاف جماعت اسلامی کاساتھ دیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے چمن پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا نائب امیرصوبہ ڈاکٹرعطاء الرحمان صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری قاری امداداللہ امیرضلع ڈاکٹربسم اللہ محمدقاسم اچکزئی ودیگرذمہ داران بھی بڑی تعدادمیں ہمراہ تھے۔

مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ اسلام آبادکے حکمران بلوچ پشتون اوربلوچستان والوں سے نفرت کرتے ہیں امریکی برطانوی شہری پاکستان میں سیاست کرسکتایے اسمبلی وسینٹ کاممبربن سکتاہے توافغانستان کاشہری چمن میں کاروبارکیوں نہیں کرسکتا۔

ہم نے توایک غیرملکی شہری شوکت عزیزکوبلاکرائرپورٹ پرشناختی بنواکرپاکستان کاوزیراعظم بھی بنادیا۔لیکن برادراسلامی ممالک کے لوگوں کونہ عزت سے رہنے کاحق نہ کاروبارکرنے کاحق یہ منافقت نہیں تواورکیاہے۔

برطانوی امریکی گرین کارڈوالوں کی پاکستانی شہریت ختم کی جائے غلام حکمران امریکی برطانوی شناخت پرفخراوربرادراسلامی ہمسائیہ ملک افغانستان والوں کیساتھ تعصب ونفرت کرتے ہوئے ازیت وتکالیف دیتے ہیں۔

ناقص پالیسیوں نااہلی کی وجہ سے آج بھی چمن شہر میں اس وقت قبائلی اشخاص کو پاکستانی ہونے کا ثبوت پیش کرنے پر مجبور کیا جارہا ہیں بلوچستان سے باہرکے لوگ ہم سے ہمارے شہروں گلیوں وعلاقوں میں ہم سے ہمارے بزرگوں سے ہتھک امیررویے کیساتھ شناخت پوچھ رہے ہیں۔

چیک پوسٹوں پرہمیں ہمارے ماوں بہنوں کوبے عزت کیاجارہاہے ہم سے ہماری شناخت چھینی جاری ہے۔

ایرانی پٹرول خووردنی اشیاء￿ کی بندش قابل مذمت ہے افغان بارڈرزکے دونوں طرف ایک خاندان ایک زبان کے قبائلی صدیوں سے ایک ساتھ رہتے ہیں حکمرانوں کے غلط ناروافیصلے ان خاندانوں کوبلاوجہ الگ کررہے ہیں افغان بارڈرزکوقانونی تجارت آمدورفت کیلئے فوری کھول دیے جائیں بارڈرزچیک پوسٹوں پرسیکورٹی فورسزکی بھاری رشوت لوٹ مارکاخاتمہ کیاجائے ان سے حالات خراب نفرتوں میں اضافہ ہواہے۔

قبل ازیں مولانا ھدایت الرحمان بلوچ نے دیگرذمہ داران کے ہمراہ قبائلی رہنما مرحوم حاجی فیض اللہ نورزئی کے گھرگیے جہاں انہوں مرحوم کی فاتحہ خوانی میں شرکت مغفرت کی دعا و خطاب کیا