|

وقتِ اشاعت :   June 26 – 2025

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر صوبائی حکومت نے تمام سرکاری محکموں کو سختی سے آگاہ کر دیا ہے کہ وہ گرینڈ الائنس کی جانب سے جاری ہڑتال کے تناظر میں اپنے ماتحت تمام ملازمین کو فوری طور پر اپنی جائے تعیناتی پر حاضر ہونے کی ہدایت کریں۔

جاری کردہ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی کو بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے یا کسی بھی قسم کے سرکاری امور میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت بلوچستان نے خبردار کیا ہے کہ جو سرکاری ملازم گرینڈ الائنس کی ہڑتال کی آڑ میں اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، اُس کے خلاف “کارِ سرکار میں مداخلت” اور حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے کسی بھی اقدام کو ناقابلِ معافی جرم تصور کیا جائے گا۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری خزانے سے صرف اُن ملازمین کو تنخواہیں جاری کی جائیں گی جو باقاعدہ طور پر اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔ غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں روک دی جائیں گی اور اُن کی تفصیلات محکمہ خزانہ کو فراہم کی جائیں گی۔

مزید برآں، حکومت بلوچستان نے کنٹریکٹ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ جو اساتذہ یا دیگر سرکاری ملازمین اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو رہے، اُنہیں فارغ کر کے نئے اہل افراد کی بھرتی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی خدمات متاثر نہ ہوں۔

تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (DDOs) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر نگرانی ملازمین کی حاضری یقینی بنائیں اور تمام غیر حاضر اہلکاروں کی فہرست فوری طور پر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کو ارسال کریں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی خدمات کے نظام کو سیاسی دباؤ یا کسی بھی قسم کی ہڑتال سے متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا، اور جو عناصر غیر قانونی طریقے سے سسٹم کو مفلوج کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔