|

وقتِ اشاعت :   June 26 – 2025

کوئٹہ؛ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جدید مہارت کے بغیر تعلیم نامکمل ہے وقت آپہنچا ہے کہ ہم اپنے صوبے میں ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی کے قیام کو زیادہ ترجیح دیں کیونکہ صوبے میں تمام ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کو ایک پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے تحت لانا ایک قابل عمل حل ہو سکتا ہے.

اکیڈمیہ اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون پیدا کر کے ملازمت کے قابل گریجویٹس پیدا کیے جا سکتے ہیں اور تمام فنی و تیکنیکی اداروں کو ایک مضبوط فنی تعلیم کا نظام تشکیل دے سکتا ہے جو معاشی ترقی اور خوشحالی کو آگے بڑھاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پولی ٹیکنیک کالج کے پروفیسرز اینڈ لیکچرز پر مشتمل وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ زمانہ تیکنیکی مہارت کا ہے لیکن بدبختانہ پولی ٹیکنیک کالج کو ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے. صوبے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کی طاقت کو بروئے کار لا کر ہم بآسانی بیروزگاری پر قابو پا سکتے ہیں.

اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہمارے طلبا جاب مارکیٹ کی طرف سے مطلوبہ مہارتوں سے لیس ہوں۔ گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موجود پولی ٹیکنیک کالجوں کو سنٹر آف ایکسی لینس بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں اور انہیں تمام ضروری سہولت دیں، یہ ہمارے طلباء کو ملازمت کی منڈی میں کامیاب ہونے اور معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے بااختیار بنائے گا۔

ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی معیاری تکنیکی تعلیم اور تربیت تک رسائی فراہم کرے گی، نظریہ اور عمل کے درمیان فرق کو ختم کرے گی۔ ہم مستحق مگر قابل طلباء￿ و طالبات کو دوسرے صوبوں یا ممالک میں تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکالرشپس کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے. پولی ٹیکنیک کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے انجینئرز اور پیشہ وارانہ ماہرین ہی اقتصادی ترقی کے محرک ثابت ہوں گے۔