|

وقتِ اشاعت :   June 26 – 2025

کوئٹہ:  بلوچستان گرینڈا لائنس مطالبات منوانے کے لئے ڈٹ گئی ، کئی گھنٹوں پر محیط کور کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے ،لاک ڈائون جاری رکھنے کا فیصلہ ،28جون کی اعلان کردہ پہیہ جام ہڑتال عوامی مشکلات کے پیش نظر موخر ،نئے بجٹ کی پی ایس ڈی پی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان ، کوئٹہ اور مچھ جیل میں قید ملازمین آج سے روزانہ پانچ گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کریں گے ، 28جون کو تمام اضلاع کے پریس کلبز کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور اس کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔

گرینڈا لائنس کے جاری کردہ اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی قیادت ہمیں اسمبلی کے باہر احتجاج نہیں کرنے دیتی ہم اسلام آباد جاکر ایوان صدر کے باہر دھرنا دیں گے تاکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئر مین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو پتہ چلے کہ ان کی حکومت ہمارے ساتھ کیا کررہی ہے ، ہم کسی وزیر یا بڑے وزیر کی انااور ضد کے آگے ہار نہیں مانیں گے ملازمین سرکلر اور بیانات کے دبائو میں نہیںآ ئیں گے۔

واضح رہے کہ بلوچستان گرینڈا لائنس نے17جون کو بجٹ اجلاس کے موقع پر اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جس میں شمولیت کے لئے بلوچستان بھر سے قافلے کوئٹہ پہنچے تھے تاہم اس دوران حکومتی مذاکراتی ٹیم کی مثبت یقین دہانی اور باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے مطالبات تسلیم کرنے کے اعلان پر گرینڈا لائنس نے احتجاج موخر کردیا تھا تاہم بجٹ پیش ہوا

تو اس میں ملازمین کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا کوئی ذکر نہ تھا جس کے خلاف بلوچستان گرینڈا لائنس نے ایک بار پھر احتجاج کا اعلان کیا24جون کو ملازمین کی پرامن ریلی پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے خلاف بلوچستان گرینڈالائنس نے لاک ڈائون کا اعلان کیا اور بدھ کی طرح جمعرات کے روز بھی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کو چھوڑ کر تمام دفاتر ،سکول ، کالجز ، جامعات اور دیگر اداروں میں تالہ بندی کی گئی جمعرات کو بلوچستان بار کونسل نے بلوچستان گرینڈالائنس کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے صوبہ بھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیابلوچستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے ریلی پر پولیس کی لاٹھی چارج،

شیلنگ اور مرد خواتین ملازمین کو زخمی کرنے کے خلاف احتجاجاً عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے حکومت تمام گرفتار ملازمین کو فوری رہا کر کے ان کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرے۔ دوسری جانب جمعرات کو بلوچستان گرینڈا لائنس کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اب تک کے حالات وواقعات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اہم فیصلے کئے گئے کور کمیٹی کو بتایا گیا کہ عوامی حلقوں نے پہیہ جام ہڑتال نہ کرنے کی اپیل کی ہے جس پر فیصلہ ہوا کہ عوامی مشکلات کے پیش نظر بلوچستان گرینڈا لائنس 28جون کے پہیہ جام کی کال واپس لیتی ہے اب 28جون کو بلوچستان بھر کے پریس کلبز کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔کور کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگلے مالی سال کا جو بجٹ گزشتہ روز اسمبلی سے منظور ہوا ہے اس میں بہت زیادہ جھول ہے پی ایس ڈی پی میں مفادعامہ کے برخلاف ذاتی ، گروہی ، اور سیاسی بنیادوں پر سکیمات ڈالی گئی ہیں جس پر فیصلہ ہوا کہ بی جی اے اس عوام دشمن پی ایس ڈی پی کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور اس ضمن میں وکلاء￿ سے مشاورت کا عمل شروع کردیاگیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چونکہ ایک طرف حکومت میڈیا پر آکر مذاکرات کا اعلان کرتی ہے اور دوسری جانب ذاتی عناد ، انا اور ضد کی یہ حالت ہے کہ ملازمین کے خلاف دھمکی آمیز سرکلر جاری ہورہے ہیں اور جو قائدین گرفتار ہیں ان سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی بلوچستان گرینڈ الائنس کو کہیں پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی لہٰذا اس جمہور دشمن ، آئین کے مختلف آرٹیکلز کے برخلاف اقدامات کو اجاگر کرنے اور مطالبات کے حل کے لئے کوئٹہ سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا اور اسلام آباد میں احتجاج کیا جائے گا

کور کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب احتجاج بلوچستان اسمبلی کے باہر نہیں بلکہ ایوان صدر کے باہر اسلام آباد میں کیا جائے گا اس احتجاج کی تاریخ کا اعلان اگلے اجلاس میں کیا جائے گا جبکہ اس دوران اضلاع میں قائم ایکشن کمیٹیاں اپنی تیاریاں مکمل کرکے کور کمیٹی کو آگاہ کریں گی جس کے بعد مشاورت سے اسلام آباد احتجاج کی تاریخ دی جائے گی۔ کور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چونکہ ظلم اور جبر کی حد کرتے ہوئے حکومت گرفتار رہنمائوں اور عام ملازمین سے ملاقات کی اجازت تک نہیں دے رہی لہٰذا اس کے خلاف آج بروز جمعہ سے کوئٹہ او رمچھ جیل میں قید اسیران روزانہ کی بنیاد پر پانچ گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کریں گے۔

کور کمیٹی کے اجلاس میں اب تک کے کامیاب لاک ڈائون پر اطمینان کااظہار کیاگیا اور فیصلہ ہوا کہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کو چھوڑ کر تمام اداروں میں تالہ بندی کا سلسلہ جاری رہے گا۔کور کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ جلد ہی انجمن تاجران اوردیگر تاجر تنظیموں سے ملاقات کرکے ان کی مشاورت سے شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد بلوچستان گرینڈ الائنس کے جاری کردہ اعلامیے میں وکلاء￿ برادری ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے بی جی اے کی حمایت کی اور یکجہتی کااظہار کیا۔

بی جی اے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے احتجاج کے اعلان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس کا خیر مقدم کرتا ہے

اور اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مظلوم ملازمین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اعلامیے میں کامیاب لاک ڈائون پر ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام سرکاری ملازمین کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے کمفرٹ زون سے نکلیں اور تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنا حصہ ڈالیں کسی بھی وزیر یا بڑے وزیر صاحب کے دھمکی آمیز سرکلر ، بیانات سے دبائو میں نہ آئیں حکومتی وزراء کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ وہ کئے گئے وعدوں سے انحراف کرکے قسم قرآن اٹھاتے ہیں اور مذاکرات کا اعلان کرکے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں بلوچستان بھر کے ملازمین متحد ہو کر خیبرپختوا اور پنجاب کے ملازمین کی طرح اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں لہٰذا صفوں میں اتحادو اتفاق یقینی بنایا جائے۔