|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2025

کوئٹہ : سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی،نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بانی رہنماء اور پارٹی کے مرکزی ریسرچ اینڈ پالیسی کمیٹی کے سربراہ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک ، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے کی معدنیات اور وسائل کو لوٹنے کا اختیار وفاق کو دینے کے لئے منظور کئے گئے

جعلی مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا اس کے خلاف صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ عدالتی کاروائی بھی کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سراوان ہاوس کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس کے بعد ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے اسلم بلوچ، چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ، نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ بلوچستان کے صدر احمد جان سمیت وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کو اکثر جماعتیں شفاف نہیں سمجھتیں بلوچستان میں ڈمی الیکشن سے بننے والی اسمبلی سے یہ قانون پاس کرایا گیا کہ بلوچستان کی معدنیات اور ساحل و وسائل کا اختیار وفاق کو دیا جائے اور بلوچستان میں ڈمی اسمبلی نے عجلت میں مائنز اینڈ منرلز کا قانون منظور کرایا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت بلوچستان کے وسائل کو چھینا اور لوٹا جائیگا

18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبے کو ملنے والے اختیارات کو ایک بار پھر وفاق کو دے دیا گیا ہے جوبلوچستان کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن کو سیاسی جماعتیں صاف اور شفاف قرار نہیں دے رہی ہں اور پارلیمان میں بیٹھے ہوئے نمائندے بھی عوام کے منتخب کردہ نہیں ہیں۔ اس ایکٹ کے ذریعے بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کو بائی پاس کیا گیا ہم اس غیر آئینی ایکٹ کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کریں گے اس کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں جو ہمارے ساتھ شریک ہیں

وہ اپنے اپنے طور پر مرحلہ وار رٹ پٹیشن عدالت میں دائر کریں گے ہم نے مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کو بھی اس حوالے سے ساتھ دینے کیلئے دعوت دی تھی لیکن وہ نہیں آئے پاکستان کا اس وقت تمام نظام مایوس کن ہے اس ایکٹ کے خلاف پٹیشن کرتے ہوئے ہم خود اور ججوں کو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے کیونکہ ہم نے آئینی اور قانونی حوالے سے بلوچستان کے وسائل کا دفاع کرنا ہے اور ہمیں عدلیہ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہے اور ججز بھی صوبے کے وسائل کو لوٹنے کا اختیار فیڈریشن نہ دیں ہمارے ساتھ نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ ، نیشنل پارٹی اور وکلاء شامل ہیں اٹھارویں ترمیم میں جو محکمے اور وسائل صوبے کو منتقل ہوئے تھے

ان پر عملدرآمد کی بجائے انہیں دوبارہ فیڈریشن کو سونپنے کے لئے اس طرح کی جعلی قانون سازی کی جارہی ہے اور الیکشن میں اپنے جعلی، من پسند لوگوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے لاکر ہینڈل کرکے بلوچستان کی معدنیات اور وسائل کو لوٹنے کی کوششیں کی جارہی ہے جس ہم اجازت نہیں دے سکتے ۔ اس موقع پر نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بانی رہنماء اور پارٹی کے مرکزی ریسرچ اینڈ پالیسی کمیٹی کے سربراہ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ معدنیات 18 ویں ترمیم سے پہلے بھی صوبے کی ملکیت تھی بلوچستان کی دولت کے وارث بلوچستان کے لوگ ہیںاسلام آباد میں معدنیات کو فروخت کرنے کیلئے ایک کا ایک میلا لگایا گیا اور دنیا بھر کے لوگوں کو اس میں مدعو کیا گیا تھا صوبوں کی معدنیات اور وسائل کو لوٹنے کے لئے فیڈریشن کو اختیار دینے کے خلاف اپنی آئینی، سیاسی اور قانونی جدوجہد کررہے ہیں اور اس جائز جدوجہد میں آپ سب ہمارے ساتھ ہیں بلوچستان آئین کی روح سے اپنے وسائل کا مالک ہے خیبر پختونخوا میں بھی بل پاس کرانے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے تا حال وہاں سے یہ بل پاس نہیں ہورہا

جس کیلئے وہ بہت تگ و دو کررہے ہیں اگر خیبر پختونخوا میں یہ بل پاس کرایا گیا تو لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اور ہم اس بل کو عدالت میں بھی چیلنج کریں گے اس کے علاوہ ہر فورم پر جدوجہد کرتے ہوئے آواز بلند کریں گے انہوں نے کہا کہ وسائل کے استعمال کا اختیار صوبوں کا تھا

جسے اب وفاق کو دیا گیا بلوچستان کی دولت اور وسائل کو مینوپولیٹ کیا گیا ہے اسلام آباد میں وسائل کے لئے ایک میلہ لگایا گیاجس کے بعد مائنز اینڈ منرلز ایک جعلی قانون جو بنایا گیا ہے ہم ثابت کریں گے ہم تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں ہم کبھی عوام کی ملکیت منرلز اور وسائل کو اونے پونے داموں بیچنے نہیں دیں گے۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے کبھی بھی بلوچستان کے وسائل اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیاحکومت نے اپنے اختیارات ایک کونسل کو دئیے ہیں18 ویں ترمیم پر ایک فیصد بھی عمل نہیں ہورہاکہ کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جو محکمے اور وسائل صوبے کو منتقل ہونے تھے وہ نہیں ہوئے نہ ہی اس پر عملدرآمد کیا گیا حالانکہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اپنے وسائل پر اختیار دیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد ممکن نہیں بنایا گیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں رئیر منزلز پائے جاتے ہیں عدلیہ کا کردار مایوس کن ہے مایوسی کے باوجود ہم بلوچستان کے وسائل ، معدنیات کو اونے پونے فروخت کرنے کے عمل کو روکنے کیلئے عدلیہ کے دروازے کو کھٹکھٹائینگے

تاکہ اپنے آئینی، سیاسی اور قانونی اختیار اور جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اس ایکٹ اور اٹھارویں ترمیم کو ڈی ریل کرنے کی سازش سمجھتی ہے اب بلوچستان کے مستقبل کے فیصلے اسپیشل انویسٹمنٹ کونسل کرے گی اس حکومت نے اپنے اختیارات کونسل کو دے دئیے ہیں بلوچستان میں دنیا کے رئیر منرلز پائے جاتے ہیں

جن کی مالیت لاکھوں میں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں افرا سیاب خٹک نے کہا کہ قدرتی وسائل سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر کہا کہ سرکاری ملازمین کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئے ہم ان وسائل پر نسلوں سے آباد ہیں سرکاری ملازم نے کل ریٹائر ہونا ہے جواب دینا نہیں چاہتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں ڈاکہ ڈالا گیا اور 2024ء کے الیکشن میں اس سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا اور خرید و فروخت کی گئی جس کے بعد فارم 45 اور 47 کے ذریعے لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجا گیا ان کا محاسبہ ہوگا اور سیاست میں محاسبہ ہوتا آیا ہے عوامی رائے کا احترام ہونا چاہئے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چیئرمین ، وزراء، اراکین پارلیمان ، ججز اور جرنیلز کی تنخواہیں 600 فیصد بڑھی ہے لیکن ملازمین کو کچھ نہیں دیا اور ہمارے وسائل ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح لوٹنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ایک سوال کے جواب میں نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ ڈی ایچ اے کے قانون کو بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں نواب محمد اسلم رئیسانی میں نے چیلنج کر رکھا ہے

اور اب ہم مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو بھی عدالت میں چیلنج کررہے ہیں تاکہ اپنی آئینی، قانونی، سیاسی ذمہ داری اور روایات کو پورا کرسکیں ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے عدلیہ کا دروازہ کٹھکھٹائیں گے کیونکہ ہم سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔