|

وقتِ اشاعت :   June 29 – 2025

کوئٹہ: جمعیت علما اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا اہم اجلاس شہباز ٹان کوئٹہ میں صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبے کے امن و امان کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

اور رمضان المبارک سے تاحال جمعیت علما اسلام کے متعدد رہنماں اور کارکنوں کی شہادت پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ وڈیرہ غلام سرور، مولانا امان اللہ، مفتی شامیر، ڈاکٹر صدیق، میر کامران جتک سمیت درجنوں رہنماں کی ٹارگٹ کلنگ کو جمعیت علما اسلام کے خلاف ایک منظم اور مذموم سازش قرار دیا گیا، جس کا مقصد جماعت کو اس کے اصولی موقف سے پیچھے ہٹانا ہے۔

تاہم، ان شہدا کی قربانیوں نے کارکنوں کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں، اور جماعت اپنی جدوجہد میں پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔اجلاس میں مصور خان کاکڑ کی شہادت پر گہرے دکھ و غم کا اظہار کیا، مصور خان کاکڑ کی شہادت بلوچستان میں یہ قتل نہیں، حکومت کی رٹ کا عبرتناک انجام ہے حکومت بزدلی سے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، بلوچستان میں ریاستی اختیار دفن ہو چکا ہے

اجلاس میں حکومت کے ناقابلِ فہم، غیر سنجیدہ اور مجرمانہ حد تک غفلت آمیز رویے کی نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، بلکہ اس کے خلاف ایک ہمہ جہت، ٹھوس اور فیصلہ کن لائحہ عمل مرتب کرنے پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا۔شرکا نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ امن و امان کی بحالی کے ادارے مسلسل ناکامی کا شکار ہیں، جبکہ حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

ہمارے بے گناہ کارکنوں اور دیگر جماعتوں کے ساتھیوں کا خون بہایا جا رہا ہے، جبکہ حکومت محض بیانات اور جھوٹے دعووں سے قوم کو بہلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ جس حکومت کے وزرا دن رات سیر و تفریح اور اقتدار کے نشے میں مدہوش ہوں، وہ عوام کی جان و مال کی محافظ نہیں بلکہ اس تباہی کی ذمہ دار ہے۔

اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ حکومت نے بدامنی، دہشتگردی، لاقانونیت اور ظلم و جبر کے خلاف مکمل طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ امن و امان کی تباہی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، اور حکومت ایک بے حس تماشائی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

جے یو آئی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، تو جماعت صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرے گی، جس میں شاہراہیں جام ہوں گی، اداروں کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے اور ہر سطح پر عوام کو متحرک کیا جائے گا۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا

کہ جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی نہ بنایا، تو جے یو آئی خاموش تماشائی نہیں بنے گی، بلکہ ہر ممکن آئینی و جمہوری راستہ اختیار کرتے ہوئے ظلم، ناانصافی اور لاقانونیت کے خلاف صف آرا ہو گی۔اجلاس میں “مائنز اینڈ منرلز بل” پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری اور اٹھارویں آئینی ترمیم پر براہِ راست حملہ قرار دیا گیا۔ شرکا نے واضح کیا کہ یہ بل دھوکہ دہی اور چالاکی سے اسمبلی سے منظور کرایا گیا،

جو ہرگز قبول نہیں۔ جمعیت علما اسلام اس کے خلاف نہ صرف عدالت میں جائے گی بلکہ سڑکوں پر بھی عوامی مزاحمت کی قیادت کرے گی۔ تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا جائے گا اور حکومت کو اس متنازع بل سے دستبردار ہونا ہی پڑے گا۔

اسی طرح، اجلاس میں ایمپلائیز گرینڈ الائنس کے ساتھ حکومتی رویے کی بھرپور مذمت کی گئی۔ دھرنے کی قیادت کو گرفتار کرکے انہیں گرمی کے موسم میں مچھ جیل کے ناکافی سہولتوں والے کوارٹرز میں رکھنا ایک غیرجمہوری، غیرانسانی اور توہین آمیز عمل ہے۔

جمعیت نے اعلان کیا کہ وہ سرکاری ملازمین کے آئینی و جمہوری مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔اجلاس میں شہدا کی ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی، جن میں تبلیغی جماعت بلوچستان کے امیر ڈاکٹر روح اللہ، شہید حافظ مصور، شہید ڈاکٹر صدیق و رفقا، جسٹس جمال مندوخیل کی والدہ، شہید میر کامران جتک، وڈیرہ غلام سرور موسیانی، مولانا امان اللہ، مفتی شامیر و دیگر شامل تھے۔

اجلاس میں صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا آغا محمود شاہ، سرپرستِ اعلی مولانا حافظ محمد یوسف، نائب امیر مولانا کمال الدین، مولانا نظر محمد حقانی، مولانا سرور ندیم، سیکریٹری اطلاعات دلاور خان کاکڑ، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، حاجی غوث اللہ اچکزئی، ایم پی اے حاجی اصغر خان ترین، سید ظفر آغا، ڈاکٹر نواز خان کاکڑ، غلام دستگیر بادینی، میر حسن ساسولی حاجی دین محمد سیگی ،حاجی نواز خان کاکڑ، حاجی عبدالواحد آغا اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس بدستور جاری ہے اور اہم فیصلے کئیے جائنگے جس کا اعلان آج کیا جائے گا