|

وقتِ اشاعت :   August 22 – 2025

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی موبائل کمپنیوں کی مدد سے افغانستان کی سمز کو سگنلز تک رسائی ملتی ہے

 پاکستانی موبائل کمپنیوں سے افغان سمز کو سگنل ملنے کا انکشاف ہوا ہے، قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین رانا ارادت کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ برطانیہ کی سمز کو بلاک کیا گیا ہے، افغان سمز کے حوالے سے اگلے اجلاس میں بریفنگ دیں گے۔

بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ معاملے پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی رانا ارادت نے استفسار کیا کہ جن ڈیوائس کے ذریعے سمز رجسٹرڈ ہوتی ہے، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟۔

کمیٹی کی رکن نعیمہ کشور نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے نام پر گاؤں دیہات میں انگوٹھے لگواتے ہیں، سمز استمال ہوتی ہیں، پشاور میں باآسانی افغانستان کی سمز دستیاب ہیں، ان کےذریعے بھتہ وصولی سمیت دیگرجرائم ہوتے ہیں۔