کراچی : کراچی سے جبری طور پر لاپتا ہونے والے نوجوانوں کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ کراچی پریس کلب کے باہر مسلسل جاری ہے،
جو 22 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو جبری طور پر لاپتا کر کے گھروں سے اٹھایا گیا اور آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں۔
لواحقین نے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتا نوجوانوں کو فی الفور بازیاب کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو وہ عدالتی عمل کے ذریعے سامنے آ سکے۔
اس موقع پر لاپتا زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی نے پورے خاندان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیٹے پر کسی جرم کا الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو نظر انداز کر کے نوجوانوں کو لاپتا کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسی طرح، لاپتا سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ نے کہا کہ ان کا بیٹا گھر کا واحد کفیل تھا، اور اس کی گمشدگی کے بعد پورا خاندان معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا ایک بے گناہ اور محنتی نوجوان ہے، جسے کسی الزام کے بغیر گھر سے اٹھایا گیا۔ “ہم انصاف چاہتے ہیں، ہمیں ہمارے بیٹے واپس دیے جائیں،” ان کا کہنا تھا۔مزید برآں، ماری پور کے علاقے سنگھور پاڑہ سے تعلق رکھنے والی بزرگ خاتون اماں سبزی بلوچ نے بھی اپنے ایک اخباری بیان دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دو بیٹے شیراز اور سیلان کو 23 مئی 2025 کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا اور تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
اماں سبزی کے مطابق، ان کے دونوں بیٹے بے گناہ ہیں اور ان کی جبری گمشدگی کے باعث خاندان شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا بڑا بیٹا شیراز شادی شدہ ہے، جبکہ اس کی اہلیہ امید سے ہیں اور گھر میں کمانے والا کوئی نہیں رہا۔