|

وقتِ اشاعت :   September 23 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کے معاشی اور سکیورٹی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو “معاشی قتل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے فیصلوں کا طریقہ کار عوام دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر بند کرنا عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ یہ ایک سنگین غفلت ہے، جو عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ “لوگ خودکشی کر رہے ہیں، عوام کا دشمن کون ہے؟” انہوں نے مزید سوال کیا، “کیا بارڈر پر رہنے والے غدار ہیں؟”

مولانا ہدایت الرحمن نے چمن، گوادر اور کیچ کے بارڈرز کی بندش کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بلوچستان میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “بلوچستان حکومت عوام دشمن ہے” اور صوبے میں حکومت کے نام پر کچھ نہیں ہے۔

رکن اسمبلی لیاقت لہڑی نے تاجر طبقے کی مشکلات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ “تاجر دکانوں کا کرایہ پورا نہیں کر پا رہے ہیں”، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ “بارڈر کی بندش سے صوبے میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے”۔ لہڑی نے حکومت کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ صوبے کے نوجوان بے روزگاری کے باعث سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

دستگیر بادینی نے بارڈر پر بسنے والوں کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک وفد اسلام آباد جائے۔ صوبائی وزیر صادق عمرانی نے کہا کہ بارڈر بندش کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے اور اس کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو وزیراعظم سے جا کر بارڈر کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ “بارڈر ٹریڈ کی پالیسی بنانی چاہیے اور اس کا مستقل حل ہونا چاہیے”۔

صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ظہور بلیدی نے بلوچستان کی بڑی آبادی کو بارڈر سے متعلق مسائل کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مختلف پروگرام چلا رہی ہے۔ انہوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں بارڈر مارکیٹس کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ ان مارکیٹس میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “سرحد پار سے دہشت گردی کی جاتی ہے، جس کے خلاف ریاستی ادارے اور وفاقی حکومت اقدامات کر رہی ہے”۔

اسپیکر اسمبلی نے مولانا ہدایت الرحمن کو اسمبلی کا جھومر قرار دیتے ہوئے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

بلوچستان اسمبلی کے اس اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے بارڈر کی بندش، بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئیں، جس سے صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور عوامی مسائل کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔