کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پاکستان میں جے یو آئی کی جانب سے مظاہرے کیے گئے ہیں، اور فلسطین کی حمایت میں عالمی سطح پر مسلم امہ کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے ایران اور قطر پر بھی حملہ کیا ہے۔
مولانا عبدالواسع نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کی حمایت کی اور کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت جمعیت علمائے اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے یکجا ہونے سے امریکہ اور اسرائیل میں تشویش پیدا ہوئی ہے اور وہ اس معاہدے میں دیگر مسلم ممالک کے سربراہان کو شامل ہونے کی درخواست کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، انہوں نے ان ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
مولانا عبدالواسع نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے، اور کہا کہ جے یو آئی پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف بھی آواز اٹھا رہی ہے، جو بیرونی سازشوں کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔
انہوں نے 14 اکتوبر کو قلعہ سیف اللہ میں مفتی محمود کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا اور کہا کہ اس کانفرنس کے بعد خضدار میں بھی جلسہ کیا جائے گا، جس کے مہمان خصوصی مولانا اسد محمود ہوں گے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان اسمبلی میں حالیہ پاس ہونے والے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ایکٹ کی وجہ سے شہریوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ جے یو آئی نے اس ایکٹ کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو اس ایکٹ میں ترمیم کرنے کی دعوت دی۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر کی زیر صدارت مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایک مشترکہ ڈراپ تیار کرنے کی تجویز دی، اور بہت جلد اس ڈراپ کو حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں ایک شرط پر شرکت کرے گی۔