|

وقتِ اشاعت :   September 27 – 2025

مستونگ: مستونگ میں قومی شاہراہ پر میجر چوک کے مقام ایرانی تیل بردار زمباد پک اپ گاڑی پر ایف سی اہلکار کی مبینہ فائرنگ، فائرنگ سے زمباد گاڑی کا ڈرائیور موقع پرجاں بحق ہوگیا۔ لاش کو شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال منتقل کردیا گیا

جہاں پر ضروری کارواہی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردیا گیا مگر لاش کو منتقل کرنے کیلئے ہسپتال منجمنٹ کی جانب سے ایمبولینس فراہم نہیں کی گئی ، لواحقین اوربے روزگار یونین کے رہنماؤں نے لاش اسٹریکچر پر اٹھا کر میجر چوک دھرنا پہنچا دیا، فائرنگ واقعہ کے خلاف عوام اور بے روزگار یونین نے مشتعل ہوکر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو احتجاجا بلاک کردیا، مظاہرین سے ڈپٹی کمشنر مستونگ نے مذاکرات کئے تاہم مذاکرات ناکام ہوئے، مظاہرین فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا، تفصیلات کے مطابق مستونگ میں ہفتہ کے روز اعلی الصبح میجر چوک پر تیل سپلائی کرنے والے پک اپ زمباد گاڑی پر ایف سی کی گشت گاڑی کے اہلکار نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی ڈرائیور محمد ابراہیم ساکن پنجگور موقع پر جاں بحق ہوگیا واقعہ کے فورا بعد مشتعل افراد نے قومی شاہراہ میجر چوک پر لاش روڈ پر رکھ کر احتجاجا بلاک کردیا،

جاں بحق شخص کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میرے بھائی کو برائے راست فائرنگ کرکے قتل کیا، میرے بھائی کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ اپنے گھر چلانے اور بچوں کا پیٹھ پالنے کیلئے باعزت طور پر تیل کے روزگار سے منسلک تھا، انھوں نے کہاکہ روزگار کے دیگر ذرائع نہیں ہے اور ہم مجبورا تیل کے کاروبار سے منسلک ہیں مگر سکورٹی فورسز ہمیں باعزت روزگار کرنے کے بجائے برائے راست فائرنگ کرکے قتل کررہے ہیں، انھوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جب تک میرے بھائی کے قتل میں ملوث ایف سی اہلکار کے خلاف مقدمہ درج اور انکی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی ہم احتجاج جاری رکھیں گے،

ہمیں انصاف چائیے ہمارا قصور کیا ہے ہم دہشت گرد نہیں ہے میرے بھائی کے پاس اسلحہ نہیں تھا کہ اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، انھوں نے کہاکہ ہمیں تربت سے کوئٹہ تک ذلیل کیا جاتا ہے اور روزانہ قتل کررہے ہیں ہمارا قصور کیا ہے ہمیں بتایا جائے کہ باعزت روزگار کرنا ہمارا قصور ہے ان مظالم پر اسمبلیوں میں بیٹھے ہمارے لیڈران بھی خاموش تماشائی ہم عوام پر ظلم دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب دھرنے میں موجودبے روزگار یونین کے رہنماؤں عبدالمالک شاہوانی عبدالطیف شاہوانی نے کہاکہ سکورٹی فورسز نے گاڑی روکھنے کے بجائے فائرنگ کی جس سے ہمارا ایک بے روزگار نوجوان جاں بحق ہوا جبکہ سخت افسوسناک امر یہ ہے کہ شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال کی منجمنٹ نے لاش کی منتقلی کیلئے ایمبولینس تک نہیں دیا جس کی مذمت کرتے ہیں

ہسپتال انتظامیہ میں اتنا بھی انسانیت نہیں کہ لاش کیلئے ایمبولینس دیتے۔انھوں نے کہاکہ ایران بارڈر سے ٹوکن سسٹم کے ذریعے باقاعدہ ایف بی آر کو ٹیکس دے کر تیل لا رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم بلوچ نے مظاہرین سے مذاکرات کئے جو کہ ناکام ہوئے۔ روڈ بلاکنگ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔