کوئٹہ : جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کانفرنس قلعہ سیف اللہ ایک عظیم، تاریخی اور فیصلہ کن اجتماع ہوگا، جو نہ صرف جمعیت علمائے اسلام کی شاندار سیاسی و دینی روایت کو زندہ کرے گا بلکہ ملت اسلامیہ کے لیے فکری،
نظریاتی اور سیاسی رہنمائی کا سنگِ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 14 اکتوبر کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی کامیابی کے لیے تمام اضلاع اپنی بھرپور توانائیاں صرف کریں اور اپنی تمام تر سرگرمیوں کو کانفرنس کی کامرانی پر مرکوز رکھیں۔ یہ دن تاریخ کے سنہری ابواب میں درج ہوگا،
بشرطیکہ ہر کارکن اور ہر ذمہ دار اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لائے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مفتی محمود ایک نابغہ روزگار اور دوراندیش قائد تھے جنہوں نے اپنی حکمت عملی اور اصولی سیاست سے ملت اسلامیہ کو ہمیشہ راہنمائی دی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کا کردار ایک نظریاتی مینارِ ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ اسلام ہی عدل، مساوات اور حقیقی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جب امت مسلمہ فکری انتشار اور سیاسی انتشار سے دوچار ہے، تو مفتی محمود? کے افکار و نظریات کی روشنی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی رہنمائی پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہے۔
یہ کانفرنس صرف ایک یادگار اجتماع نہیں ہوگی بلکہ ایک عملی پیغام دے گی کہ جمعیت علمائے اسلام عوام کی واحد نمائندہ قوت ہے، جو اسلامی نظام کے نفاذ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کر رہی ہے۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ قلعہ سیف اللہ کی ضلعی جماعت پر سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، انہیں شب و روز محنت کرکے اس اجتماع کو تاریخ کا ناقابلِ فراموش اجتماع بنانا ہوگا۔ یہ کانفرنس اس امر کا اعلان ہوگی کہ جے یو آئی اپنے ماضی کی سنہری روایات کی طرح آج بھی ملک و ملت کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے پرعزم اور یکسو ہے۔انہوں نے کارکنوں کو تاکید کی کہ اس اجتماع کو محض ایک پروگرام نہ سمجھا جائے بلکہ ایک انقلابی مشن کے طور پر لیا جائے۔
ہر ضلع سے قافلے جوش و ولولے کے ساتھ قلعہ سیف اللہ پہنچیں اور دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دیں کہ جے یو آئی ہی عوام کی سب سے بڑی، منظم اور حقیقی قوت ہے۔