|

وقتِ اشاعت :   June 1 – 2016

اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی اور استحکام جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ اب ہمارے جمہوری نظام میں اتنی مضبوطی پیدا ہوگئی ہے کہ مختلف بحرانوں سے نمٹ سکے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ پائیدار ترقی اور استحکام جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں، ملک کے نرم و گرم حالات میں جمہوری سفر کامیابی سے جاری ہے، اور اب ہمارے جمہوری نظام میں اتنی مضبوطی پیدا ہوگئی ہے کہ مختلف بحرانوں سے نمٹ سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے ترقی کا سفر کامیابی سے جاری رکھا، ملک میں ٹیکس وصولیوں کے نظام میں بہتری آئی، بجٹ خسارے میں کمی آئی اور افراط زر کی شرح بھی کم ہوئی، جبکہ زرمبادلہ اور قومی پیداوار کی شرح نمو بڑھ رہی ہے۔ ممنون حسین نے کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف جمہوری استحکام پر یقین رکھتے ہیں، حکومتیں اس طرح پالیسیاں ترتیب دیں کہ ملک میں استحکام ہو، کمزور اور غریب طبقات کی بہبود کے لیے اقدامات جاری رہنے چاہئیں، جبکہ ضد اور ذاتی اختلافات کو قومی مفادات میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں بلوچستان اور کراچی بحال امن کے حوصلہ افزا تنائج سامنے آئے ہیں اور ملکی سطح پر معاشی صورتحال بہتری ہوئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس سال کے آخر تک داخلی سلامتی کو یقینی بناکر ضرب عضب کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس لیے ہمیں ان آپریشن سے ہونے والی ساری نتائج کو برقرار رکھنے کے لیے توجہ مبذول کرنا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری قومی منصوبہ ہے، تمام جماعتیں اس میں ہاتھ بٹائیں، اس سے معیشت کو استحکام ملے گا، معیشت کا استحکام اور اقتصادی خودمختاری ہر حکومت کا نصب العین ہونا چاہیے، ملکی ترقی کے لیے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، مضبوط پاکستان کی تعمیر مضبوط معیشت سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے مکمل ہونے کے لیے کچھ وقت لگے گا، اس دوران ملک میں کئی بار انتخابات ہوں گے اور کئی حکومتیں ملک کی باگ ڈور سنھالیں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے عوام اور فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کی اس تحفظ کی اس جنگ میں قربانی پیش کرنے والے عوام اور افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے قومی یاد گار قائم کی جائے، زندہ قومیں اپنی شہیدوں کو ہمیشہ ایسے ہی عزت و احترام دیا کرتی ہیں۔ صدر نے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں جان کی قربانی پیش کرنے والے بھی ہمارے ہیرو ہیں، ہم ان کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔

اپوزیشن کی نعرے بازی

صدر ممنون حسین کے خطاب کے دوران اپوزیشن کے چند اراکین نے شور شرابہ کیا اور نعرے بازی کی، اپوزیشن پاناما لیکس کے حوالے سے بات نہ کرنے پر جملے بازی کرتے رہے جبکہ رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ماتھے پر اسٹیکر لگا کر ڈرون حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

خارجہ پالیسی کی بنیاد امن

ممنون حسین نے کہا کہ ہم دنیا پر واضح کرتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد امن برائے ترقی اور پرامن ہمسائیگی ہے، یہ پالیسی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کی روشنی میں تشکیل دی گئی تھی۔ جس میں قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی تمام اقوام عالمی سے دوستی اور بھائی چارے پر مبنی ہوگی، ہم کسی قوم یا ملک پر جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم قومی اور عالمی معاملات میں ایمانداری اور غیر جانب داری پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے مظلوم اور کچلے ہوئے عوام کی مادی و اخلاقی مدد اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسبانی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ صدر نے کہا کہ اسلامی برادری سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات نہایت دوستانہ اور قریبی ہیں، ہم خلیج تعاون کونسل کے ساتھ افرادی قوت ، دفاعی اور توانائی کے شعبے میں تعاون سمیت فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے ) پر بات چیت کررہے ہیں جو باہمی تجارت کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔