کوئٹہ؛ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ, بلوچستان کا مرکز ہے جہاں صرف دو یا تین ہسپتال شہر کی 40 لاکھ آبادی کی طبی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت واضح ہے
جس کیلئے دو ہزار بستروں سے لیس ایک جدیدترین ہسپتال کے قیام کی ضرورت ہے۔ صوبے کے اہم طبی مرکز کے طور پر، کوئٹہ اپنے رہائشیوں کو معیاری علاج اور طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ایک مضبوط انفراسٹرکچر کا مطالبہ کرتا ہے۔ بریسٹ کینسر کی بڑھتی ہوئی تشویش سے نمٹنے کیلئے ہم مجوزہ ہسپتال کو درست تشخیص، حفاظتی تدابیر اور بقا کی شرح کو بہتر بنانے کیلئے جدید سہولیات فراہم کرینگے۔
یہ اقدام کوئٹہ کے صحت کی دیکھ بھال کے منظرنامے کو بدل دیگا. ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے بیوٹمز یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام بریسٹ کینسر سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف پروفیسر ڈاکٹر ظہور بازئی، وائس چانسلر بولان میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، پرووائس چانسلر ڈاکٹر میروائس کاسی، پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم شاہوانی پروفیسر ڈاکٹر عاصمہ یوسفزئی،محترمہ تہانی جاوید (چیف آرگنائزر)، ڈاکٹر رمیز اسحاق، ڈاکٹر عبدالواجد، ڈاکٹر گوہرام، ڈاکٹر عمرانہ نیاز سلطان، ڈاکٹر روزینہ شیخ اور ڈاکٹر شاہجہان شبیر موجود تھے. سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بریسٹ کینسر دنیابھر میں خواتین کو متاثر کرنے والا سب سے عام کینسر ہے.
پاکستان میں بھی ہر سال ہزاروں خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ پیغام اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ احتیاط ہی زندگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ خواتین اکیسویں صدی میں میں کئی کلومیٹر دور اپنے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں. ماں کی تندرستی میں درحقیقت پورے خاندان کی صحت مندی کا راز پنہاں ہے. ضروری ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر بریسٹ کینسر سے متعلق زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اگائی دیں اور تشخص کے آسان طریقے روشناس کرائیں۔گورنر لبوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ڈاکٹروں اور صحت کے دیگر ماہرین اس بات پر متفق ہے کہ متوازن غذا، باقاعدگی سے ورزش اور صحت مند وزن کے ساتھ، چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
گورنر مندوخیل نے بریسٹ کینسر سے بچاو اور آگاہی کے حوالے سے کامیاب سیمینار کے انعقاد پر میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور بیوٹمز یونیورسٹی کے منتظمین کی کوششوں کو کو سراہا اور تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان پر زور دیا کہ عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر آپ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک روشن مگر صحت مند مستقبل کو یقینی بنائیں۔ آخر میں گورنر بلوچستان نے مہمانان گرامی اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز اور اسناد تقسیم کیے۔